حمزہ پرویز ایک برطانوی داعشی جنگجو جن کا اصل تعلق پاکستان سے ہے مگر برطانوی شہریت کا حامل ہے، پانچ سال پہلے اس نے داعش کے خود ساختہ خلافت ک...Read More
حمزہ پرویز ایک برطانوی داعشی جنگجو جن کا اصل تعلق پاکستان سے ہے مگر برطانوی شہریت کا حامل ہے، پانچ سال پہلے اس نے داعش کے خود ساختہ خلافت کی طرف ہجرت کی، اور سوشل میڈیا پر بھی کافی فعال رہے کبھی موصل تو کبھی الرقہ کے شاہانہ زندگی کی تصاویر تو کبھی فاسٹ فوڈز کے ریسٹونٹ سے تصاویر شائع کرتے ہوئے لوگوں کو یہ باور کراتے کہ یہاں زندگی کتنی ہی پرسکون اور مزوں سے بھری ہے، اب الباغوز میں کرد ملیشیات کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں اور ان ہی کی گرفت میں موجود ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کو انٹریو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل تنظیم میں ایسا کچھ موجود نہیں تھا جتنا پروپیگنڈا آنلائن کیا جاتا رہا اور ہم خود اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے، مزید کہتے ہیں کہ اگر 'پچھتاوے' سے زیادہ کوئی اور بڑا لفظ ہوتا تو میں وہ استعمال کرتا جو کے اس گروپ کے شمولیت پر مجھے ہو رہا ہے۔ ان کی بیوی اور بچے بھی کرد ملیشیات کے قید میں ہیں، اور ان کی برطانوی شہریت بھی چھینی جا چکی ہے، اب یہ منتیں کر رہا ہے کہ خدارا مجھے پاکستان نہ بھیجیں بلکہ واپس وہی 'دار الکفر' والی شہریت دیں۔ 5 سالوں میں اس کا وزن 30 کلو کم ہو چکا ہے۔
Reviewed by Black Water Hunters
on
April 02, 2019
Rating: 5
*ايک شخص ابراھیم بن ادھمؒ سے بحث کر رھا تھا کہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی.* *ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا، "تم نے کتے اور بکریاں دیک...Read More
*ايک شخص ابراھیم بن ادھمؒ سے بحث کر رھا تھا کہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی.*
*ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا، "تم نے کتے اور بکریاں دیکھی ھیں؟ ".وہ شخص بولا، "ھاں ،".ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "سب سے زیادہ بچے کون جنتا ھے کتے یا بکری..؟" وہ بولا، "کُتے"۔ ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "تم کو بکریاں زیادہ نظر آتی ھیں یا کتے..؟ " وہ بولا، "بکریاں ". ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "جبکہ بکریاں ذبح ھوتی ھیں، مگر پھر بھی کم نہیں ھوتیں، تو کیا برکت نہیں ھے ؟ اسی کا نام برکت ھے". پھر وہ شخص بولا، "ایسا کیوں ھے، کہ بکریوں میں برکت ھے اور کتے میں نہیں ؟". ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "بکریاں رات ھوتے ھی فورا سو جاتی ھیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتی ھیں. یہ نزولِ رحمت کا وقت ھوتا ھے، لہذا ان میں برکت حاصل ھوتی ھے ،اور کتے رات بھر بھونکتے ھیں ، اور فجر کے قریب سو جاتے ھیں، لہذا رحمت و برکت سے محروم ھوتے ھیں"۔ پس غور و فکر کا مقام ھے، آج ھمارا بھی یہی حال ھے۔ ھم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ھیں، اور وقتِ نزولِ رحمت، سو جاتے ھیں۔ اسی وجہ سے آج نہ ھی ھمارے مال میں اور نہ ھی ھماری اولاد میں اور نہ ھی کسی دوسری چیز میں برکت رھی ھے.*
*ذرا نہیں... پورا سوچیئے ......*
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 27, 2019
Rating: 5
🏮 *علامہ ابن قیمؒ حنبلی کی رائے عالی*ابو عمرو بن صلاح سے منقول ہے :اگر کوئی شخص کسی حدیث کو اپنے مذہب کے خلاف پائے تو اگر اس می...Read More
🏮 *علامہ ابن قیمؒ حنبلی کی رائے عالی*ابو عمرو بن صلاح سے منقول ہے :اگر کوئی شخص کسی حدیث کو اپنے مذہب کے خلاف پائے تو اگر اس میں مطلق اجتہاد یا اجتہاد فی المذہب یا اس نوع میں اجتہاد یا خاص اس مسئلہ میں اجتہاد کی مکمل اہلیت ہو تو اس کے لئے حدیث پر عمل کرنا بہتر ہے ، لیکن اگر اہلیت مکمل نہ ہو اور اپنے دل میں حدیث کی مخالفت سے قلق اور گرانی محسوس کرے جب کہ تلاش و تحقیق کے بعد بھی اس کی مخالفت کے لئے کوئی جواب شافی نہ پا سکا ہو تو پھر غور کرے کہ اس حدیث پر کسی مستقل )مجتہد مطلق( امام کا عمل ہے یا نہیں اگر کسی مستقل امام کا اس پر عمل ہے تو اس حدیث میں اسی امام کے مذہب پر عمل کر لے اور یہ اس لئے اپنے امام کے مذہب کو چھوڑ دینے کے لئے صرف اس مسئلہ میں ایک عذر ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔📍 امام شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ امام نووی نے ابن صلاح کے اس قول کی تحسین کی ہے اور بلا تنقید برقرار رکھا ہے ۔ )عقد الجید ص۴۴(💟 *امام ناقد حافظ شمس الدین ذہبیؒ کا فرمان ذیشان:*حدیث پر عمل کرنا امام ابو حنیفہ یا امام شافعی کے قول پر عمل کرنے سے بہتر ہے۔اس پر رد کرتے ہوئے امام ذہبی فرماتے ہیں:۔)میں کہتا ہوں یہ عمدہ بات ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ حدیث پر عمل کا قائل ان دونوں اماموں امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے ہمسر کوئی امام بھی ہو جیسے امام مالک یا امام سفیان یا امام اوزاعی اور اس شرط کے ساتھ کہ وہ حدیث ثابت اور ہر علت سے پاک بھی ہو نیز یہ بھی شرط ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے پاس دلیل میں کوئی دوسری صحیح حدیث اس حدیث کے خلاف نہ ہو لیکن اگر کوئی کسی صحیح حدیث پر اس طرح عمل کرتا ہے کہ اس حدیث کے خلاف تمام ائمہ اجتہاد جمع ہوں تو ایسی صورت میں ہر گز اس حدیث پر عمل جائز نہیں۔)سیر اعلام النبلاء للذہبی ج ۶۵۰۴(
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 26, 2019
Rating: 5
کہتے ہیں کہ خلیفہ کا تقرر اس طرح ہوتا تھا کہ تمام مسلمان کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور یوں کثرتِ رائے کے مطابق خلافت کا انعقاد ہو...Read More
کہتے ہیں کہ خلیفہ کا تقرر اس طرح ہوتا تھا کہ تمام مسلمان کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور یوں کثرتِ رائے کے مطابق خلافت کا انعقاد ہوجاتا تھااور یوں اس بات کو یہ لوگ اس کو جمہوریت کے لئے دلیل بناتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ عامۃ المسلمین سے جو بیعت لی جاتی تھی
وہ ’’انعقادِ خلافت‘‘کے لئے نہیں بلکہ اہل حل وعقد اور الرائے شخصیات کی طرف سے کسی بھی شخص کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد اس کی اطاعت کا اقرار کرنے کے لئے کی جاتی تھی۔
جس کو ہم ’’بیعت اطاعت ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں
چناچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت خاص یعنی بیعت انعقادِ خلافت سقیفہ بنی ساعدہ میں ہوئی اور بیعت عام یعنی ’’بیعت اطاعت‘‘دوسرے دن مسجد نبویﷺمیں ہوئی ۔
اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے متعلق مشورے حضرت منور بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے گھر پر ہوئے اور اس میں بیعت انعقاد یعنی بیعت خاص عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کی اوربیعت عام مسجد نبوی ﷺمیں ہوئی۔
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 26, 2019
Rating: 5
1۔ ایک شامی بچی نے دم توڑتے وقت کہا تھا کہ "میں اپنے رب کو جا کر سب کچھ بتاؤں گی" 😭😭😭 2۔ عین...Read More
1۔ ایک شامی بچی نے دم توڑتے وقت کہا تھا کہ
"میں اپنے رب کو جا کر سب کچھ بتاؤں گی" 😭😭😭
2۔ عین لڑائی کے دوران ایک عراقی لڑکی نے جان بچا کر بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا
"انکل خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا، میں بے حجاب ہوں"
3۔ ایک فلسطینی بچہ بھوک سے نڈھال ہوگیا اور ہچکیاں لیتے ہوئے التجا کی کہ
"اے اللہ مجھ سے زندگی لے لیں اور مجھے جنت بھیج دیں، تاکہ میں پیٹ بھر کر کھانا کھا سکوں"
4۔ افغان جنگ میں ایک بچے کا بازو بری طرح زخمی ہوگیا اور ڈاکٹرز کے پاس بازو کاٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا تو اس بچے نے کہا
"ڈاکٹر صاحب خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر آستین نہیں کاٹنا، کیونکہ میرے پاس پہننے کے لیے یہی ایک جوڑا ہے"
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 21, 2019
Rating: 5
(دا یو وھابی سڑی دی وھابی خزی سرہ جگڑہ ) (چی دا دواڑہ خپل مابین کی ھس ھم نہ وو) (دی وھابیانو دہ قاضی صاحب فیصلہ) (رازے گورو...Read More
(دا یو وھابی سڑی دی وھابی خزی سرہ جگڑہ )
(چی دا دواڑہ خپل مابین کی ھس ھم نہ وو)
(دی وھابیانو دہ قاضی صاحب فیصلہ)
(رازے گورو چی جگڑہ پہ سہ وہ او قاضی صاحب
سنگہ فیصلہ کڑے دہ)
خزہ ۔۔۔۔۔ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک ۔۔۔
قاضی صاحب ۔۔۔خزی تہ ورشہ دا گیٹ سوک ڈکوی ۔۔
بی بی ۔۔۔زہ سنگہ ورشم خپلہ ورشہ ۔۔۔
قاضی ۔۔زہ جامے بدلوم او پرتوغاخ پہ سر ٹلم وخت پکی لگی ۔۔۔زر ورشہ چی سوک دی ۔۔۔
بی بی ۔۔۔ورغلم ۔۔سوک یی گیٹ کی؟ ؟؟؟۔۔
خزہ ۔۔۔۔جی زہ یوہ خزہ یم او دی قاضی صاحب سرہ مو کار دی ۔۔۔۔۔
بیبی ۔۔۔۔کہ دی تعویذ پہ غرض راغلے یی نو یاد ساتھ چی زما خاوند تعویذ نہ منی واپس زہ ۔۔۔۔
خزہ ۔۔۔نہ نہ تعویذ زہ خپلہ ھم نہ منم شکر دہ موحدہ او اھل حدیثہ یمہ ۔۔او ماتہ خلقو ستاسو دہ کور پتہ راکڑی دی چی دا ڈیر لوی قاضی دے ۔ماتہ مسئلہ پیدا شوے دی ۔۔ھغے پسی راغلے یم ۔۔
بی بی ۔۔۔۔رازہ قاضی صاحب تہ ورشو ۔۔۔تہ کینہ قاضی صاحب رازی زان برابرہ وی ۔۔۔
قاضی ۔۔۔زہ خو راغلم سہ وایی ۔۔۔
خزہ ۔۔۔قاضی صاحب ۔۔زہ راغلی یم یوہ مسئلے حل دپارہ ۔۔۔
قاضی ۔۔۔وایہ خامخا بہ حل کیگی ۔۔۔
خزہ ۔۔۔۔قاضی صاحب ۔۔ماسرہ یو سڑی ظلم کڑے دی ۔۔۔
قاضی ۔۔۔وایہ سہ ظلم تاسو سرہ شوے دے ۔۔ولی پہ تاسو کی چا مڑے کڑے دے ۔۔۔؟؟؟؟
خزہ ۔۔۔نہ جی ۔۔۔مڑے نہ دے شوے ۔۔خو لیکن پہ ماباندی زیاتے شوے دی ۔۔۔۔۔
قاضی ۔۔۔خوری سہ چل شوے دی ستاسو پہ کنایات باندی نہ پوھیگم ۔۔۔
خزہ ۔۔۔جی قاضی ۔۔۔ماسرہ زما گاونڈی زنا اوکڑہ نوم یی بادام گل توحید یار ۔۔۔۔
قاضی ۔۔۔اف اف ۔۔۔دا خو ڈیر ظلم شوے دی ۔۔دا راتہ او وایہ چی تاسو وادہ کڑے دی او نہ ۔۔۔۔
خزہ ۔۔۔۔قاضی صاحب ۔۔مونگ مسئلے حل دپارہ راغلے یم ۔۔او تہ راتہ دی وادہ خبری کوے ۔۔
قاضی ۔۔خوری غلط طرف تہ زھن مہ بوزہ ۔۔زما الحمد للہ ووہ خزی دی او اسلام کی ھر سومرہ خزی کولے شے ۔۔۔خو کہ دی وادہ کڑے وی نو ستاسو دی مسئلے یو حکم دی او کہ دی نہ وی کڑے نو بیا بل حکم دی۔۔۔
خزہ ۔۔۔ما وادہ نہ دی کڑے ۔۔او بادام گل توحید یار ۔۔وادہ کڑے دی ۔۔۔
قاضی ۔۔۔۔خہ تہ بادام گل توحید یار ۔۔راولہ بیا بہ فیصلہ اوکڑم۔۔۔۔
خزہ ۔۔۔ٹیک دی قاضی صاحب زہ اوس راولم ۔۔۔
قاضی صاحب ۔۔۔زہ بہ انتظار کوم او کتاب بہ ھم اوگورم ۔۔۔۔
خزہ ۔۔قاضی ۔۔۔دادے بادام گل حاضر شوو ۔۔۔
قاضی۔۔۔۔ بادام گلہ ۔۔ولی دی داسی کار کڑے دی
بادام گل ۔۔۔جی ۔۔بس پہ زان پوہ نشوم ۔بی اختیارہ دا غلط کار رانہ اوشوو ۔۔۔۔
قاضی ۔۔۔تاسو دواڑہ دا جواب راکڑی چی دا کار پہ زورہ او زبردستی سرہ اوشوو او کہ دا دواڑو پہ رضا باندی اوشوو ۔۔؟؟؟؟
خزہ ۔۔۔قاضی صاحب ۔۔۔زما رضا نہ ووہ ۔۔داکار ماسرہ یی پہ زورہ کڑی دے ۔۔۔
قاضی صاحب ۔۔۔وایہ بادام گل توحید یارہ ۔۔۔تاسو دا کار اختیارا کڑے دی اوکہ مجبور وے او بی اختیار ووے ۔۔۔
بادام گل ۔۔قاضی صاحب ۔۔ماداسی فعل ارادہ نہ ووہ کڑے بلکی دے ماتہ بار بار کتلو او زما انتشارالذکر اوشوو ۔۔بیا پہ زان یم پوہ شوے چی سہ مو کڑی دی۔۔۔نو دا خو دادے غلطی دی چی ماتہ یی کتل ۔۔
خزہ ۔۔۔قاضی صاحب ۔۔ ما صرف پہ دی نیت ورتہ اوکتلو چی دا زما اھل حدیث رور دی موحد دی ۔۔او ماسرہ بد فعلی اوکڑہ ۔۔دا کوم انصاف داکوم دی قاضی گلہ ۔۔۔۔۔
قاضی ۔۔۔اوس زہ پوہ شوم ستاسو پہ مسئلہ باندی ۔۔۔دلتہ چی داکار شوے دی نو دیکی یو کس لہ ھم گناہ نشتہ دی زکہ چی دہ دواڑو دہ طرف نہ دا کار بے اختیارہ شوے دی ۔۔۔
بادام گل۔۔۔۔قاضی صاحب ۔۔دی مسئلے نہ دی قربان شم ۔۔۔کہ خلق راباندی خبر شول نو مونگ بہ سہ ورتہ وایو ۔۔۔
قاضی ۔۔۔ورورہ مونگ اھل حدیث پہ دلیل خبری کوو ۔۔۔دادے حوالہ واخلہ ۔۔۔
ھر کہ مکرہ شد بر زنا او رازنا جائز است ۔۔وحدغیر واجب ۔۔حوالہ ۔۔۔عرف الجادی ۔۔۔کہ یو کس مجبور شی زنا اوکڑی نو دا زنا کول ورتہ جائز دی او پہ دی کس باندی حد ھم نشتہ ۔۔۔۔
بادام گل ۔۔۔۔قاضی صاحب کور دی ودان ۔۔۔سومرہ لوی مشکل دی راتہ آسان کڑو ۔۔۔۔
قاضی۔۔۔۔مشکل مو آسان کڑو خو خیال کوے چی پہ تاسو باندی احناف خبر نشی ورنہ مشکل بہ جوڑ شی ۔۔
بادام گل ۔۔۔استاجی دا ولی
قاضی ۔۔۔ھکلہ بادام گلہ ۔۔کہ احناف تہ پہ لاس ورغلے نو تابہ سنگسار کوی زکہ چی تاسو وادہ کڑے دی ۔۔او دا خزی تہ کوڑے ورکوی زکہ چی دادے وادہ نشتہ ۔۔۔
بادام گل ۔۔۔۔خہ خہ ۔ڈیرہ منننہ چی دی پوہ کڑم ۔۔۔منننننننہ قاضی صاحب ۔۔
قاضی ۔۔۔زی بیا داسی کار مہ کوی خو کہ زبردستی او مجبوری وی نو ھغہ بیا بیلہ خبرہ دہ ۔۔۔۔۔
لیکونکی مفتی ھاشم نعمانی غلامی حفظہ اللہ الباری
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 21, 2019
Rating: 5
مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کا جواب : مرزا غلام احمد قادیانی کو اعتراض یہ ہے کہ ’’اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ ’لکن شبہ لھم...Read More
مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کا جواب
Reviewed by Black Water Hunters
on
January 21, 2019
Rating: 5