کہتے ہیں کہ خلیفہ کا تقرر اس طرح ہوتا تھا کہ تمام مسلمان کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور یوں کثرتِ رائے کے مطابق خلافت کا انعقاد ہوجاتا تھااور یوں اس بات کو یہ لوگ اس کو جمہوریت کے لئے دلیل بناتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ عامۃ المسلمین سے جو بیعت لی جاتی تھی وہ ’’انعقادِ خلافت‘‘کے لئے نہیں بلکہ اہل حل وعقد اور الرائے شخصیات کی طرف سے کسی بھی شخص کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد اس کی اطاعت کا اقرار کرنے کے لئے کی جاتی تھی۔ جس کو ہم ’’بیعت اطاعت ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت خاص یعنی بیعت انعقادِ خلافت سقیفہ بنی ساعدہ میں ہوئی اور بیعت عام یعنی ’’بیعت اطاعت‘‘دوسرے دن مسجد نبویﷺمیں ہوئی ۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے متعلق مشورے حضرت منور بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے گھر پر ہوئے اور اس میں بیعت انعقاد یعنی بیعت خاص عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کی اوربیعت عام مسجد نبوی ﷺمیں ہوئی۔
کہتے ہیں کہ خلیفہ کا تقرر اس طرح ہوتا تھا کہ تمام مسلمان کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور یوں کثرتِ رائے کے مطابق خلافت کا انعقاد ہوجاتا تھااور یوں اس بات کو یہ لوگ اس کو جمہوریت کے لئے دلیل بناتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ عامۃ المسلمین سے جو بیعت لی جاتی تھی
وہ ’’انعقادِ خلافت‘‘کے لئے نہیں بلکہ اہل حل وعقد اور الرائے شخصیات کی طرف سے کسی بھی شخص کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد اس کی اطاعت کا اقرار کرنے کے لئے کی جاتی تھی۔
جس کو ہم ’’بیعت اطاعت ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں
چناچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت خاص یعنی بیعت انعقادِ خلافت سقیفہ بنی ساعدہ میں ہوئی اور بیعت عام یعنی ’’بیعت اطاعت‘‘دوسرے دن مسجد نبویﷺمیں ہوئی ۔
اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے متعلق مشورے حضرت منور بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے گھر پر ہوئے اور اس میں بیعت انعقاد یعنی بیعت خاص عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کی اوربیعت عام مسجد نبوی ﷺمیں ہوئی۔
No comments