85782D785359AA17AB647B72067E8792 مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کا جواب - Wali Khan Kakar

Breaking News

مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کا جواب

مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کا جواب :
مرزا غلام احمد قادیانی کو اعتراض یہ ہے کہ ’’اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ ’لکن شبہ لھم‘ یعنی یہودی قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ مگر اُن کو شُبہ میں ڈالا گیا کہ ہم نے قتل کر دیا ہے ۔ پس شُبہ میں ڈالنے کے لئے اِس بات کی کیا ضرورت تھی کہ کسی اور مومن کو مصلوب کر کے لعنتی بنایا جائے ۔ یا خود یہودیوں میں سے کسی کو حضرت عیسیٰ کی شکل بنا کر صلیب پر چڑھا یا جاوے ۔ کیونکہ اس صورت میں ایسا شخص اپنے تئیں حضرت عیسیٰ کا دشمن ظاہر کر کے اور اپنے اہل و عیال کے پتے اور نشان دے کر ایک دم میں مخلصی حاصل کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ عیسیٰ نے جادو سے مجھے اپنی شکل پر بنا دیا ہے یہ کس قدر مجنونانہ توہمات ہیں ۔ ‘‘(روحانی خزائن ج 22 ص 39،حقیقتہ الوحی)

میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کودو حصوں میں منقسم کر کے ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں ۔
1۔ کسی مومن کو مصلوب کر کے لعنتی کیوں بنایا گیا؟
2۔ جسے ہم شکل بنایا گیا اُس نے خاموشی کیوں اختیار کی اور اپنے بچاؤ کے لئے مزاحمت کر کے ایک دم میں مخلصی  کیوں نہیں حاصل کی؟

پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جس شخص کو مرزا غلام احمد قادیانی یہاں پہ مومن بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق مرتد تھا ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’(حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے) صرف بارہ آدمی مدت کی کوشش سے تیار کئے ۔ آخر وہ بھی یوں الگ ہوئے کہ کسی نے لعنت کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہاتھ میں دے دیا ۔ ‘‘(ملفوظات ج 5 ص 286 پرانا ایڈیشن) پھر اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’جو شخص سرسری طور پر رسول کا تابع ہو گیا اور اُس کو شناخت نہیں کیا اور اُس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اُس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر ضرور مرتد ہو گا جیسا کہ مسلیمہ کذاب اور عبداللہ ابن ابی سرح اور عبیدہ اللہ بن حجش آنحضرتﷺ کے زمانہ میں یہودااسکریوطی اور پانسو عیسائی مرتد حضرت عیسیٰ کہ زمانہ میں ۔ ‘‘(روحانی خزائن ج 22 ص 163، حقیقت الوحی) اسی طرح ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ’’انجیل سے ثابت ہے کہ وہ بارہ شاگرد جو اُن کی خاص قوت قدسی اورتاثیر کا نمونہ تھے اُن میں سے ایک نے جس کا نام یہودا اسکریوطی تھا اس نے تیس روپیہ پر اپنے آقا و مرشد کو بیچ دیا ۔ ‘‘(روحانی خزائن ج 20 ص 470)

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحاریر سے صریحاً معلوم ہو گیا کہ جس شخص نے تیس روپے کے عوض حضرت عیسیٰ علیہ اسلا م کی مخبری کی تھی اُس کا نام یہودا اسکریوطی تھا اور یہ کہ وہ مرتد تھا نہ کہ مومن اب معلوم یہ کرنا ہے کہ جس شخص کو ہم شکل بنایا گیا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ یہودا اسکریوطی ہی تھا یا کوئی اور؟ جب یہ بات طے ہو جائے گی کہ وہ شخص یہودا اسکریوطی تھا جس کے مصلوب ہونے کا اعتقاد رکھا جاتا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ اعتراض باطل ہو جائے گا کہ ایک مومن کو کیوں صلیب پر چڑھایا گیا ۔ مصلوب یہودا اسکریوطی ہی تھا جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک مرتد تھا نہ کہ مومن دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔

’’پھر (یسوع) یہودا کی طرف متوجہ ہوا ۔ اور اس سے کہا اے دوست! تو دیر کیوں لگاتا ہے؟ تحقیق میرا وقت نزدیک آ گیا ہے لہٰذا تو جا اور جو کچھ تجھے کرنا واجب ہے کر ۔ شاگردوں نے خیال کیا کہ یسوع نے یہودا کو فصح کے دن کے لئے کچھ لانے کے واسطے بھیجا ہے ۔ لیکن یسوع جان لیا کہ یہودا اس کو (دشمنوں) کے حوالے کرنے کے قریب تھا ۔‘‘(انجیل برنباس فصل 213آیت 5-7)

اور یسوع گھر سے نکل کر باغ کی طرف مُڑا تاکہ نماز ادا کرے ۔ تب وہ اپنے دونوں گھٹنوں پر بیٹھا ایک سو مرتبہ اپنے منہ کو نماز میں اپنی عادت کے موافق خاک آلودہ کرتا ہوا اور چونکہ یہودا اس جگہ کو جانتا تھا جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا اور کہا اگر تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے سپرد کر دوں گا جسکو تم لوگ ڈھونڈ رہے ہو ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل 214 آیت 1-3)

اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا ۔ جس میں سے یسوع اُٹھا لیا گیا تھا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا ۔ یہانتک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا وہی یسوع ہے ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل نمبر 216آیت 1-3)اور اسی اثنا میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا سپاہی داخل ہوئے اور اُنہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دئیے اس لئے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا ۔‘‘(انجیل برنباس فصل 216آیت 9)

یہ بات مندرجہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہو گئی کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک مرتد تھا نہ کہ مومن اُسی کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا ہم شکل بنایا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ پر صلیب دی گئی اب رہا دوسرا اعتراض کہ یہودا نے مزاحمت کیوں نہیں کی تو یہ بھی جہالت ہے کیونکہ یہودا نے بھرپور مزاحمت کی تھی اور اپنا غیر مسیح ہونا بھی بار بار بتایا تھا لیکن اُس پہ کسی نے اعتبار نہیں کیا دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔

’’یہودا نے جواب میں کہا شاید کہ تم دیوانے ہو گئے ہو تم تو ہتھیاروں اور چراغوں کو لیکر یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو ۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لو گے جس نے کہ تمہیں راہ دکھائی ہے تاکہ مجھے بادشاہ بناؤ۔‘‘(انجیل برنباس فصل 217آیت 5-6) ’’تب وہیں یہودا نے بہت سی دیوانگی کی باتیں کیں ۔ یہانتک کہ ہر ایک آدمی نے تمسخر میں انوکھا پن پیدا کیا ۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ (یہودا) درحقیت یسوع ہی ہے اور یہ کہ وہ موت کے ڈر سے بناوٹی جنون کا اظہار کر رہا ہے ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل 217آیت 10-11) ’’اور جبکہ صبح ہوئی اس وقت کاہنوں اور قوم کے شیوخ کی بڑی مجلس جمع ہوئی ۔ اور کاہنوں کے سردار نے مع فریسیوں کے یہ خیال کرتے ہوئے یہودا پر کوئی جھوٹا گواہ طلب کیا کہ یہی یسوع ہے مگر اُنہوں نے اپنا مطلب نہ پایا ۔ ‘‘

اور میں یہ کیوں کہوں کہ کاہنوں کے سرداروں ہی نے یہ جانا کہ یہودا یسوع ہے؟ بلکہ تمام شاگردوں نے بھی مع اس لکھنے والے کے یہی اعتقاد کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یسوع کی بیچاری ماں کنواری نے مع اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے یہی اعتقاد کیا ۔ یہانتک کہ ہر ایک کا رنج تصدیق سے بالاتر تھا ۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ یہ لکھنے والا اس سب کو بھول گیا جو کہ یسوع نے اس سے کہا تھا ازیں قبیل کہ وہ دنیا سے اُٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ ایک دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا جائے گا ۔‘‘(انجیل برنباس فصل 217آیت 15-20)

’’اس وقت کاہنوں کے سردار نے اس کو اسرائیل کے جیتے جاگتے خدا کے نام کا حلف دیا کہ وہ اس سے سچ کہے ۔ یہودا نے جوابدیا میں تو تم سے کہہ چکا ہوں کہ میں وہی یہودا اسکریوطی ہوں جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یسوع ناصری کو تمہارے ہاتھوں میں سپرد کر دیگا ۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کس تدبیر سے پاگل ہو گئے ہو ۔ اس لئے کہ تم ہر ایک وسیلہ سے یہی چاہتے ہو کہ میں ہی یسوع ہو جاوں ۔‘‘

کاہنوں کے سرادر نے جواب میں کہا اے گمراہ ! گمراہ کرنے والے البتہ تو نے اپنی جھوٹی تعلیم اور کاذب نشانیوں کے ساتھ تمام اسرائیل کو جلیل سے شروع کر کے یہاں اور شلیم تک گمراہ بنا دیا ہے پس کیا اب تجھ کو یہ خیال سوجھتا ہے کہ تو اس سزا سے جس کا تو مستحق ہے اور تو اسی کے لائق ہے [پاگل بن کر نجات پا جائے گا]؟‘‘ اور یہ کہنے کے بعد اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اسے خوب مکوں اور لاتوں سے ماریں تاکہ شاید اس کی عقل اس کے سر میں پلٹ آئے ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل نمبر 217آیت 25-32)

جب یہودا کو حاکم کے پاس لیکر گئے تو وہاں جو گفتگو ہوئی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’اے آقا تو مجھے سچا مان کہ اگر تو میرے قتل کا حکم دیگا تو بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہو گا اسلئے کہ تو ایک بے گناہ کو قتل کریگا کیونکہ میں خود یہودا اسکریوطی ہوں نہ کہ وہ یسوع جو کہ جادوگر ہے پس اس نے اس طرح اپنے جادو سے مجھ کو بدل دیا ہے ۔ ‘‘ (انجیل برنباس فصل 217آیت 24-25)

’’پھر حاکم نے کہا یہ آدمی کہتا ہے کہ وہ یسوع نہیں بلکہ یہودا ہے جو کہ سپاہیوں کو یسوع کو پکڑنے کے واسطے لے گیا تھا اور کہتا ہے کہ جلیل کے یسوع نے اسکو اپنے جادو سے یوں بدل دیا ہے پس اگر یہ بات سچ ہے تو اس کا قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہو گا کیونکہ یہ بے گناہ ہوگا لیکن اگر یہی یسوع ہے اور یہ انکار کرتا ہے کہ وہ یسوع ہے پس یہ یقینی ہے کہ اس کی عقل جاتی رہی ہے اور ایک دیوانہ کو قتل کرنا ظلم ہو گا اس وقت کاہنوں کے سردار اور قوم کے شیوخ نے کاتبوں اور فریسیوں کے ساتھ ملکر شور مچایا کے کہا وہ ضرور یسوع ناصری ہے اس لئے کہ ہم اس کو پہچانتے ہیں ۔(انجیل برنباس فصل 217آیت 52) ’’اور وہ دیوانہ ہرگز نہیں ہے بلکہ یقیناً وہ خبیث ہے کیونکہ یہ اپنے اس مکر سے ہمارے ہاتھوں سے بچ جانیکا خواہاں ہے ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل 217آیت 54)

’’تب اس نے اپنے ان غلاموں کو جنہیں کاتبوں نے (کچھ روپیہ) عطا کیا تھا تاکہ وہ اس (یہودا) کو قتل کر ڈالیں حکم دیا کہ اسے کوڑے ماریں ۔ مگر اللہ نے کہ انجاموں کی تقدیر کی ہے یہودا کو صلیب کے واسطے باقی رکھا تاکہ وہ اس ڈراؤنی موت (کی تکلیف) کو بھگتے جس کے لئے اس نے دوسرے کو سپرد کیا تھا ۔ ‘‘ (انجیل برنباس فصل 217آیت 67)

’’اور یہودا نے کچھ نہیں کیا سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا اس لئے کہ مجرم تو بچیگا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آوازاور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ سب ہی شاگردوں اور اسپر ایمان لانیوالوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا ۔ اسی لئے ان میں سے بعض یہ خیال کر کے یسوع کی تعلیم سے نکل گئے کہ یسوع جھوٹا نبی تھا اور اس نے جو نشانیاں (ظاہر) کیں وہ فن جادوگری سے (ظاہر) کی تھیں اس لئے کہ یسوع نے کہا تھا کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مریگا ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل 217آیت 79-82) پھر چاروں فرشتوں نے کنواری سے بیان کیا کہ کیونکر اللہ نے یسوع کی جانب فرشتے بھیجے اور یہودا( کی صورت) کو بدل دیا تاکہ وہ اس عذاب کو بھگتے جس کے لئے اس نے دوسرے کو بیچا تھا ۔ ‘‘(فصل نمبر 220آیت 11) ان تمام واقعات کو مدنظر رکھ کر اور اللہ کی تقدیر پر ایمان لا کر دیکھا جائے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے اس قول کا بلکہ ہر ایک اعتراض کا بطلان اور اس کا جہالت سے بھرپور ہونا آشکار ہو جاتا ہے کہ ’’ایک دم میں مخلصی  کیوں نہیں حاصل کی‘‘ کیونکہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کی نہیں چلتی یہودا جو کچھ کر سکتا تھا اُس نے کیا لیکن اللہ کی تقدیر اٹل تھی اگر مرزا غلام قادیانی بھی یہودا کی جگہ ہوتا تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اُس کا بھی ایک دم میں مخلصی پانا ممکن نہیں تھا اور اُس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا جو یہودا اسکریوطی کے ساتھ ہوا ۔

اب یہاں آخر پر میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا ایک فرمان نقل کر کے مرزا غلام قادیانی کے اعتراض کے جواب کو ختم کرونگا جو کچھ یوں ہے ۔ ’’اور وہ بھی لکھ جو یہودا پر واقع ہوا تاکہ ایمانداروں کا دھوکا کھانا زائل ہو جائے اور ہر ایک حق کی تصدیق کرے ۔ ‘‘(انجیل برنباس فصل 221آیت 2) اللہ کی شان دیکھیں کہ اللہ کی ذات کو معلوم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسا بے ایمان، ایمان والوں کو یہودا اسکریوطی کی وجہ سے دھوکا دے گا اس لئے پہلے ہی اس کے ہر ایک جز کا بطلان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے فرما دیا اور یہ پیشگوئی پوری شان سے پوری ہوئی الحمد اللہ ۔

مرزا غلام قادیانی کے نزدیک مروجہ اناجیل غیر معتبر تھیں جیسا کہ اس کی تصریح اُنہوں نے کئی مقامات پر فرمائی ہے لیکن میں صرف ایک حوالہ اس پر نقل کر رہا ہوں تاکہ موضوع کو طوالت سے بچایا جا سکے ملاحظہ فرمائیں’’ عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں بنا کر اور بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدائے تعالیٰ کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعویٰ کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کتابیں ہیں ۔ پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی یہی جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس عادت سے کیوں باہر رکھا جائے؟‘‘(روحانی خزائن ج 4ص467)

پھر اس صفحہ کے حاشیہ میں فرماتے ہیں ۔ ’’ چنانچہ اسی جعلسازی کی برکت سے بجائے ایک انجیل کے بہت سی انجیلیں شائع ہو گئیں عیسائیوں کا خود یہ بیان ہے کہ مسیح کے بعد جعلی انجیلیں کئی تالیف ہوئیں ۔ جیسا کہ منجملہ ان کے ایک انجیل برنباس بھی ہے ۔ یہ تو عیسائیوں کا بیان ہے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ چونکہ ان انجیلوں اور اناجیل اربعہ مروجہ میں بہت کچھ تناقض ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل مسیح کے مصلوب ہونے سے بھی منکر ہے اور مسئلہ تثلیث کے بھی مخالف اور مسیح کی الوہیت اور ابنیت کو بھی نہیں مانتی اور نبی آخر الزماں ﷺ کے آنے کی صریح لفظوں میں بشارت دیتی ہے ۔ تو اب عیسائیوں کے اس دعویٰ بے دلیل کو کیونکر مان لیا جائے کہ جن انجیلوں کو اُنہوں نے رواج دیا ہے ۔ وہ تو سچی ہیں اور جو اُن کے مخالف ہیں وہ سب جھوٹی ہیں ۔ ماسوا اس کے جب کہ عیسائیوں میں جعل کی اس قدر گرم بازاری رہی ہے کہ بعض کامل اُستادوں نے پوری پوری انجیلیں بھی اپنی طرف سے بنا کر عام طور پر قوم میں انہیں شائع کر دیا اور ایک ذرہ پروں پر پانی پڑنے نہ دیا ۔ تو کسی کتاب کا محرف مبدل کرنا اُن کے آگے کیا حقیقت تھا ۔

پھر جب کہ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں یہ انجیلیں قلمبند نہیں ہوئیں بلکہ ساٹھ یا ستر برس مسیح کے فوت ہونے کے بعد یا کچھ کم و بیش اختلاف روایت اناجیل اربعہ کا مجموعہ دنیا میں پیدا ہوا تو اُس سے ان انجیلوں کی نسبت اور بھی شک پیدا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس بات کا ثبوت دینا مشکل ہے کہ اس عرصہ تک حواری زندہ رہے ہوں یا اُن کی قوتیں قائم رہی ہوں ۔ اب ہم سب قصوں کو مختصر کر کے ناظرین کو یہ باور دلاتے ہیں کہ اس بات کا عیسائیوں نے ہرگز صفائی سے ثبوت نہیں دیا کہ بارہ انجیلیں جعلی اور چار جن کو رواج دے رہے ہیں جعل اور تحریف سے مبرا ہیں بلکہ وہ ان چاروں کی نسبت بھی خود اقرار کرتے ہیں کہ وہ خالص خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں اور اگر وہ ایسا اقرار نہ بھی کرتے تب بھی انجیلوں کے مغشوش ہونے میں کچھ شک نہیں تھا کیونکہ اس بات کا بار ثبوت اُن کے ذمہ ہے ۔ جس سے آج تک وہ سبکدوش نہیں ہو سکے کہ کیوں دوسری انجیلیں جعلی اور یہ جعلی نہیں ۔ ‘‘

یہاں مرزا غلام قادیانی نے انجیل برنباس کو معتبر ٹھہرانے کے لئے انجیل برنباس کی وکالت کی ہے اور دیگر کو ناقابل اعتبار ٹھہرایا ہے اور ایک مقام پر اسے اصلی مانا ہے ’’ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط (جس کا ترجمہ محمد ﷺ ہے) مسلمانوں نے داخل کر دیا ہو گا [مگر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہی] ‘۔‘‘(روحانی خزائن ج 2ص290) بہرحال جو اعتراضات ردوقبول کے مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں پر قائم کئے ہیں اُس سے وہ خود بھی سبکدوش نہیں ہوپائے کیونکہ وہ اعتراضات مرزا غلام احمد قادیانی پر بھی قائم ہوتے ہیں ۔ اسلئے ہم مرزا غلام قادیانی کے استدلات کو جو اُنہوں نے مروجہ اناجیل سے فرمائے ہیں مسترد کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراضات کو بھی جو کہ صرف تدلیس ابلیس پر مبنی ہیں ۔

نوٹ:۔ تمام حوالہ جات کے اصل سکین موجود ہیں بوقت مطالبہ پیش کئے جا سکتے ہیں ۔

No comments