85782D785359AA17AB647B72067E8792 ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: " بے شک دل اللہ تعالی سے محبت کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے... تم اپنے دل کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی محبت، امن اور کاملیت کی تلاش میں نہ بانٹو... (اسے) تم ہرگز نہیں پا سکتے!!! *اور عنقریب دل اکیلا رہ جائے گا اسے انسان چھوڑ دیں گے کیونکہ وہ اپنی کمیوں اور کمزوریوں کے باعث معذور ہیں اور وہ صدمے اور درد و الم سے ہی دو چار ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اسے یقین آ جائے کہ حقیقت میں کوئی تعلق درست نہیں سوائے اللہ کے! اور دل سوائے اللہ کے ساتھ کے نہ تو پرسکون ہوتا ہے، نہ مطمئن اور نہ ہی امن میں آتا ہے... پھر وہ دوسروں سے اللہ کے لیے، اللہ کی خاطر محبت کرتا ہے، تاکہ اللہ راضی ہو جائے وہ یہ اپنے نفس کی رضا کے لیے نہیں کرتا اور جس سے اللہ راضی ہو گیا تو وہ اسکے بعد اسے ہر حال میں راضی کر دے گا.... اس بات پر یقین رکھو! جو کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے انس پاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے۔ شیخ د.خالد السبت فرماتے ہیں: جب انسان کا دل مخلوق سے لگا ہوتا ہے تو وہ اس کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو کوئی پتھر ہو یا انسان ہو، کوئی عورت ہو یا گاڑی ہو، پراپرٹی ہو یا مال ہو یا اس کے علاوہ کچھ اور ہو۔ اللہ تعالی نے اس دل کو اس بہترین ترکیب پر پیدا کیا ہے جہاں اس کے حالات کی درستگی ممکن نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا تعلق اپنے رب اپنے مالک کے ساتھ نہ بن جائے پھر اگر وہ اللہ کے سوا کسی چیز سے جوڑے گا تو اسی کے ذریعے سے عذاب دیا* جائے گا۔ تم ہرگز زندگی کی اصل کو نہیں پہنچ سکتے سوائے اللہ کی خاطر کچھ کرنے میں، اللہ پر توکل کرنے اور اللہ کے ساتھ رہنے کے! اور جو اللہ تعالی کے لیے کچھ چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس کے عوض بہترین عطا کرتےہیں! محبت اللہ تعالی کا بہت بڑا رزق ہے جسے وہ اپنے ان بندوں پر انعام کرتا ہے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور اس طرح اس کی محبت کو پا لیتے ہیں تو پھر اللہ تعالی دوسروں کے دلوں میں ان کی محبت القاء کر دیتے ہیں۔ محبت کا معاملہ ایسا ہے کہ یہ ڈیمانڈ کرنے، چھیننے،زبردستی لینے سے نہیں ملتی بلکہ محبتیں پانے کا نسخہ اللہ تعالی نے قرآن میں بتا دیا کہ: { عنقریب رحمن ان کے لیے محبت بنا دے گا } قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بندہ جب اپنے پورے دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی مومنین کے دل اس کی طرف پھیر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ان کی محبت کا رزق عطا کر دیتا ہے! اللهُمَّ إني أسألُكَ حُبَّك ، وحُبَّ مَن يُحِبُّك ، والعملَ الذي يُبلِّغُنِي حُبَّك.. آمین یا اللہ - Wali Khan Kakar

Breaking News

ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: " بے شک دل اللہ تعالی سے محبت کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے... تم اپنے دل کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی محبت، امن اور کاملیت کی تلاش میں نہ بانٹو... (اسے) تم ہرگز نہیں پا سکتے!!! *اور عنقریب دل اکیلا رہ جائے گا اسے انسان چھوڑ دیں گے کیونکہ وہ اپنی کمیوں اور کمزوریوں کے باعث معذور ہیں اور وہ صدمے اور درد و الم سے ہی دو چار ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اسے یقین آ جائے کہ حقیقت میں کوئی تعلق درست نہیں سوائے اللہ کے! اور دل سوائے اللہ کے ساتھ کے نہ تو پرسکون ہوتا ہے، نہ مطمئن اور نہ ہی امن میں آتا ہے... پھر وہ دوسروں سے اللہ کے لیے، اللہ کی خاطر محبت کرتا ہے، تاکہ اللہ راضی ہو جائے وہ یہ اپنے نفس کی رضا کے لیے نہیں کرتا اور جس سے اللہ راضی ہو گیا تو وہ اسکے بعد اسے ہر حال میں راضی کر دے گا.... اس بات پر یقین رکھو! جو کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے انس پاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے۔ شیخ د.خالد السبت فرماتے ہیں: جب انسان کا دل مخلوق سے لگا ہوتا ہے تو وہ اس کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو کوئی پتھر ہو یا انسان ہو، کوئی عورت ہو یا گاڑی ہو، پراپرٹی ہو یا مال ہو یا اس کے علاوہ کچھ اور ہو۔ اللہ تعالی نے اس دل کو اس بہترین ترکیب پر پیدا کیا ہے جہاں اس کے حالات کی درستگی ممکن نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا تعلق اپنے رب اپنے مالک کے ساتھ نہ بن جائے پھر اگر وہ اللہ کے سوا کسی چیز سے جوڑے گا تو اسی کے ذریعے سے عذاب دیا* جائے گا۔ تم ہرگز زندگی کی اصل کو نہیں پہنچ سکتے سوائے اللہ کی خاطر کچھ کرنے میں، اللہ پر توکل کرنے اور اللہ کے ساتھ رہنے کے! اور جو اللہ تعالی کے لیے کچھ چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس کے عوض بہترین عطا کرتےہیں! محبت اللہ تعالی کا بہت بڑا رزق ہے جسے وہ اپنے ان بندوں پر انعام کرتا ہے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور اس طرح اس کی محبت کو پا لیتے ہیں تو پھر اللہ تعالی دوسروں کے دلوں میں ان کی محبت القاء کر دیتے ہیں۔ محبت کا معاملہ ایسا ہے کہ یہ ڈیمانڈ کرنے، چھیننے،زبردستی لینے سے نہیں ملتی بلکہ محبتیں پانے کا نسخہ اللہ تعالی نے قرآن میں بتا دیا کہ: { عنقریب رحمن ان کے لیے محبت بنا دے گا } قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بندہ جب اپنے پورے دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی مومنین کے دل اس کی طرف پھیر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ان کی محبت کا رزق عطا کر دیتا ہے! اللهُمَّ إني أسألُكَ حُبَّك ، وحُبَّ مَن يُحِبُّك ، والعملَ الذي يُبلِّغُنِي حُبَّك.. آمین یا اللہ

ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
" بے شک دل اللہ تعالی سے محبت کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے... تم اپنے دل کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی محبت، امن اور کاملیت کی تلاش میں نہ بانٹو... (اسے) تم ہرگز نہیں پا سکتے!!!

*اور عنقریب دل اکیلا رہ جائے گا اسے انسان چھوڑ دیں گے کیونکہ وہ اپنی کمیوں اور کمزوریوں کے باعث معذور ہیں
اور وہ صدمے اور درد و الم سے ہی دو چار ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اسے یقین آ جائے کہ حقیقت میں کوئی تعلق درست نہیں سوائے اللہ کے!
اور دل سوائے اللہ کے ساتھ کے نہ تو پرسکون ہوتا ہے، نہ مطمئن اور نہ ہی امن میں آتا ہے...

پھر وہ دوسروں سے اللہ کے لیے، اللہ کی خاطر محبت کرتا ہے، تاکہ اللہ راضی ہو جائے
وہ یہ اپنے نفس کی رضا کے لیے نہیں کرتا
اور جس سے اللہ راضی ہو گیا تو وہ اسکے بعد اسے ہر حال میں راضی کر دے گا.... اس بات پر یقین رکھو!

جو کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے انس پاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے۔


شیخ د.خالد السبت فرماتے ہیں:

جب انسان کا دل مخلوق سے لگا ہوتا ہے تو وہ اس کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو کوئی پتھر ہو یا انسان ہو، کوئی عورت ہو یا گاڑی ہو، پراپرٹی ہو یا مال ہو یا اس کے علاوہ کچھ اور ہو۔

اللہ تعالی نے اس دل کو اس بہترین ترکیب پر پیدا کیا ہے جہاں اس کے حالات کی
درستگی ممکن نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا تعلق اپنے رب اپنے مالک کے ساتھ نہ بن جائے پھر اگر وہ اللہ کے سوا کسی چیز سے جوڑے گا تو اسی کے ذریعے سے عذاب دیا* جائے گا۔

تم ہرگز زندگی کی اصل کو نہیں پہنچ سکتے سوائے اللہ کی خاطر کچھ کرنے میں، اللہ پر توکل کرنے اور اللہ کے ساتھ رہنے کے!

اور جو اللہ تعالی کے لیے کچھ چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس کے عوض بہترین عطا کرتےہیں!

محبت اللہ تعالی کا بہت بڑا رزق ہے جسے وہ اپنے ان بندوں پر انعام کرتا ہے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور اس طرح اس کی محبت کو پا لیتے ہیں تو پھر اللہ تعالی دوسروں کے دلوں میں ان کی محبت القاء کر دیتے ہیں۔ محبت کا معاملہ ایسا ہے کہ یہ ڈیمانڈ کرنے، چھیننے،زبردستی لینے سے نہیں ملتی بلکہ محبتیں پانے کا نسخہ اللہ تعالی نے قرآن میں بتا دیا کہ:

{ عنقریب رحمن ان کے لیے محبت بنا دے گا }
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

بندہ جب اپنے پورے دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی مومنین کے دل اس کی طرف پھیر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ان کی محبت کا رزق عطا کر دیتا ہے!

اللهُمَّ إني أسألُكَ حُبَّك ، وحُبَّ مَن يُحِبُّك ،
والعملَ الذي يُبلِّغُنِي حُبَّك.. آمین یا اللہ

No comments