آج مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی کتاب *گمراہ کن عقائد ونظریات اور صراط مستقیم*
*راہ اعتدال..........!!*
آج مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی کتاب *گمراہ کن عقائد ونظریات اور صراط مستقیم* کا مطالعہ کر رہا تھا۔اس میں حضرت نے عبدالقوم صاحب بی اے کی کتاب *تاریخ نواصب* کے حوالے سے موصوف کے نظریات و افکار پیش کیے ہیں۔موصوف کے علمی تعارف کے بارے لکھا ہے کہ وہ *فاضل وفاق المدارس، دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی* ہیں۔
اس میں تعجب کی بات یہ ملی کہ جس طرح پروفیسر طاہر علی ہاشمی صاحب نے اپنے اصول کی بنیاد پر اپنی کتاب *ناقدین امیر معاویہ رضی اللہ عنہ* میں تمام اکابرین امت کو *نیم شیعہ* ثابت کیا ہے، اسی طرح ان صاحب نے اپنے اصول کی بنیاد پر تمام اکابرین امت کو *ناصبی* بنا دیا ہے۔
مولانا لدھیانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "............اس لیے مصنف نے اہل سنت امام مالک، امام احمد، امام بخاری اور ان کے بعد تمام اکابر رحمہم اللہ کو ناصبیوں کے زمرے میں شامل کیا ہے۔"(273)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکابرین امت *راہ اعتدال* پر تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ مشاجرات صحابہ میں تمام مجتہدین تھے، کسی ایک پر نقد جائز نہیں ہے، بل کہ ضلالت اور گمراہی ہے۔اس میں بھی دو رائے نہیں ہے کہ ایک مجتہد مصیب اور ایک مخطی ہوتا ہے۔جس طرح مجتہدِ مصیب کو دو اجر ملتے اسی طرح حدیثِ نبوی کے مطابق مجتہدِ مخطی کو بھی ایک اجر ملتا ہے۔جس عمل پر اجر و ثواب ملتا ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ اس عامل کو مجرم اور گناہ گار کہنا بہ ذات خود جرم اور گناہ ہے۔
*لہذا اہل سنت و الجماعت کا نصوصی تائید کے مطابق عقیدہ ہے کہ مشاجرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مصیب اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطائے اجتہادی پر تھے۔جس کی وجہ سے دونوں کی شان ومنزلت اور مرتبہ و مقام میں زرا برابر فرق نہیں آتا۔*
اسی اعتدال بر مبنی عقیدہ کی وجہ سے روافض سے متاثر حضرات اکابرین اہل سنت والجماعت کو ناصبی شمار کرتے ہیں اور شعیوں کی مخالفت میں حد سے تجاوز کرنے والے حضرات اکابرین امت کو نیم رافضی شمار کرتے ہیں۔
اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے دوست احباب سے التماس ہے کہ وہ اپنے اکابرین کا دامن ہمہ وقت تھام کر رکھیں۔گمراہوں اور گمراہیوں سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے ان اکابرین امت کا پلو کبھی نہ چھوڑیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں دین اسلام کے عقائد، نظریات اور افکار کے افہام و تفہم میں گزاری ہیں اور اپنی جان و مال اور اہل و عیال کی پرواہ کیے بغیر حق بیان کرنے کا حق ادا کیا۔اپنا تن من دھن نچھاور کر دیا، مگر دین اسلام کے صاف شفاف چہرے پر داغ تک نہ آنے دیا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حق سچ اور ماانا علیہ و اصحابی والے عقیدہ پر زندگی گزارنے کی توفیق دے اور موت بھی اسی عقیدہ پر دے۔آمین
#احتشام_الحسن_چکوال
No comments