تاویل کی لغوی و اصطلاحی معنی
تاویل کی لغوی و اصطلاحی معنی
مع باطل کی طرف سے اعتراض اور اس کا موتوڑ جواب فقہ اکبر سے اعتراض لیتے ہے جواب بھی اسی فقہ اکبر سے دیکھ مع خیانت غیر مقلدین جو ان کی عادت بن چکی ہے ....مع مذید معلومات
تاویل کالغوی معنی
1⃣جمع .جمع کرنا. اول اللہ علیک امرک ای جمع اللہ ...
2⃣ الرد .واپس....اول اللہ علیک ضالک ای رد اللہ علیک ضالک ..
3⃣ الطلب والتحری .تلاش ..تاولت فلانا ای طلبت ....
4⃣التدبر .سوچ و فکر .تاولت الکلام ای تدبرتہ ...
5⃣ المرجع والمصیر .تاولت .ای صیرتہ ...
6⃣ نبت تاکل البھائم ایک پودے کا نام ہے
ذکرہ الازھری فی تھذیب اللغات
▶اصطلاح میں تاویل کا معنی ◀
1⃣ التاویل ھو توجیہ لفظ متوجہ الی معان مختلفہ الی واحد منھا بما ظھر من الادلہ
مختلف معانی رکھنے والا لفظ ان میں سے ایک معنی کی طرف متوجہ کرنا دلائل کے ظھور کی وجہ سے ( دلائل کے موجودگی میں اس معنی کی طرف لفظ کو پھیرنا)
2⃣ التاویل ھو صرف الایہ الی معنی موافق لما قبلھا و ما بعدھا تحتملہ الایہ غیر مخالف للکتاب والسنہ بطریق الاستنباط .
تاویل یہ آیت کو پھرنا ہے ایسے معنی کی طرف جو ماقبل و مابعد (سیاق و سباق ) کے موافق ہو اور قران و سنت کے مخالف نہ ہو استنباط کے طریقہ پر .
◀ علامہ سیف الآمدی فرماتے ہے جب آپ نے تاویل کا معنی پہچان لیا پس یہ مقبول اور معمول بہ ہے جب اس کے شرائط ثابت ہو اور ہمیشہ سے ہر زمانہ کے علماء صحابہ کے زمانہ سے لیکر اب تک اس پر عمل کرنے والے ہیں .( یہ تاویل جو شرائط کے مطابق ہو ہر زمانہ میں کیس گیا ہے .وہ شرائط اس کی اصطلاحی معنی دیکھ چکے آپ )
الاحکام فی اصول الاحکام ج 3 ص 59
📢 نام نھاد سلفیوں کی طرف سے بزعم ان کے بہت بڑھا اشکال ہے
وہ یہ ہے کہ یہ لا مذہب امام صاحب کا قول فقہ اکبر سے پیش کرتے ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ تاویل یہ تعطیل ہے ..... تو وہ یہ طعنہ دیتے ہے کہ اپنے امام اعظم کی مخالفت عقیدہ میں کیوں کرتے ہو ...وغیرہ
یہ اعتراض بظاہر مضبوط لگ رہا ہے مگر پریشان نہ ہونا چاہئے یہ وسوسہ سے کھچ آگے نہیں ......
آئے اس کے جواب کو کبار علماء کی زبانی سے ...
سردست اتنا کہتا ہوں معتزلہ اور جھمیہ کے تاویل میں آسمان و زمین کا فرق ہے
معتزلہ اور جھمیہ تاویل بطریق جزم و تیقن کرتے ہے جس سے اصل صفت کا تعطل لازم آتا ہے
اور اشاعرہ و ماتریہ جو تاویل کرتے ہیں وہ بطریق احتمال ہوتا ہے ..
سب علماء کے اقوال ملاحظہ
1⃣ محقق العصر علامہ ابن الھمام الحنفی المتوفی 861 ھ مع کمال الدین علی بن ابی شریف المتوفی 905 ھ
فرماتے ہے تاویلات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہے لما ذکرنا من صرف فھم العامة عن الجسمیة و ھو ممکن ان یراد و لا یجزم بارادتہ (اس لفظ پر غور کرے ) خصوصا علی قول اصحابنا ( الماتریدیہ ) انھا من المتشابھات و حکم المتشابہ انقطاء رجاء معرفة المراد منہ فی ھذا الدار ای دار التکلیف و الا لکان قد علم ای لمن حصلت لہ من العباد و ذلک ........
اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ تاویلات علماء نے اس وجہ سے کئے تھے کہ معتزلہ اور جھمیہ کی پنجہ سے عوام کے ذھنوں بچا سکے اور یہ ممکن ہے کہ یہ مراد یعنی تاویلی معنی اور یہ بدرجہ جزم و یقین کے نہیں .معتزلہ اور جھمیہ کی طرح
المسامرہ مع شرح المسایرہ فی العقائد المنجیہ فی الآخرہ ص 48
2⃣ علامہ عبد القاھر جرجانی الاشعری فرماتے ہے اس آیت کے تفسیر میں فثم وجہ اللہ الایہ ای وجہ اللہ لیس کاوجہ خلقہ و ھو خالق الوجوہ متعال عن الحلول فی الجھات و الاقطار و ھو اقرب من حبل الورید و قد اول من اول من اصحابنا بانہ اقبال بالرحمة و الرضوان و القبول و ھو ممکن ان یکون مرادا ( یہیں جگہ محل استشھاد ہے و ھو ممکن ......ای لا بطریق الجزم کالمعتزلہ .....)
درج الدرر فی تفسیر الایہ و السور ج 1 ص 277 .278
3⃣ شیخ الاسلام علامہ سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ اسی سوال کا جواب اسی طرز پر دیا جو اوپر دو علماء کے تشریح کے ضمن میں گزرا
تکرار کی خوف سے اعادہ نہیں کرتا
معارف مدنی ص 47
4⃣ حافظ الشام ابن عساکر بھی اسی طرح فرماتے ہے خلاصہ ان کا یہیں ہے
مگر حافظ صاحب مسئلہ کو سمجھانے کی لئے تین مثال قائک کئے ہے
1 کہ طبیب حازق وہ ہے جو بیمار کو بیماری کے مطابق داوئی دے نہ یہ کے کہ ہر ایک کو ایک قسم کی داوئی دے .اسی طرح تاویل و تفویض سمجھو جس کو تفویض کی ضرورت ہو جیسے علماء اس کو تفویض بتانا چاہئے اور عوام چونکہ ان کے ذھن اس درجہ کا نہیں ہوتا اس کو قران و سنت کے موافق تاویل بتا دے
2 محدث سفیان ثوری رح کا قول نقل کیا ہے کہ جب شام جائے تو حضرت علی رض کی فضائل بیان کی جائے کیونکہ وھاں ان کے مخالفین ہے اور جب کوفہ جائے تو عثمان رض کے فضائل بیان کی جائے جو اس کے مخالفین وھاں ہے ..
اسی طرح تفویض و تاویل کو استعمال کرے موقع محل کے مطابق دونوں درست ہے جب موقع محل کے موافق ہے ..
3 صحراء میں چلنے والے کی لئے تیرنا جھالت اور اپنے کو برباد کرنے علاوہ کچھ نہیں ھاں تیرنے کی جگہ سمندر ہے جب کشتی خراب اور ٹوٹ جائے تو اب تیرنا ناگزیر ہے
اسی طرح تفویض و تاویل کا موقع و محل ہے ....
یہ میں اس کا خلاصہ آسان سلفسظ میں بیان کر چکا بعینہ الفاظ کے ترجمہ کو نہیں کیا .عام لوگوں کی رعایت کی لئے
ص 388 389
📢 سلفی تاویل کو بدعت شمار کرتے ہے....
یہ ان کی جھالت یا تعصب ہے کیونکہ بدعت وہ ہے جس کا وجود خیر القرون میں نہ ہو حالانکہ تاویل تو صحابہ کے دور سے آ رہا ہے
مفسر قران ابن عباس رض سے کتنے تاویلات منقول ہے میں چند کا ذکر کرتا ہوں تاکہ مسئلہ بے غبار ہو جائے
1⃣ ابن عباس رض سے ساق کی تفسیر شدت کے ساتھ مروی ہے
تفسیر طبری ج 29 ص 38
⚠ انتباہ ◀
بعض سلفی اس تاویل کو تفسیر کا جامہ پہناتا ہے جو تعصب اور جھالت کے علاوی کچھ نییں تاویل کی تعریف گزرے اس کو دیکھ فیصلہ کرے یہ تفسیر ہے یا تاویل ...
کیونکہ مشبہ فرقہ سلفیہ اس سے صفت ساق پنڈلی ثابت کرتے ہے جو اس کا ظاہر ہے ابن عباس رض نے اس کو ظاہر سے ہٹا کر شدت کے معنی میں کیا .
اور یہیں تفسیر مندجہ ذیل کبار مفسرین سے بھی مروی ہے
قتادہ . مجاد . ابن جبیر . ابن جریر طبری فرماتے ہے و قال جماعة من الصحابہ والتابعین من اہل التاویل ای تفسیر یوم یکشف عن ساق ای یبدو عن امر شدید ...اور یہ تاویل ہے ساق کی ..
اور طبری رح جو سلف میں سے ہے اس کو مسلم بتایا ہے
) اب نام نھاد سلفی اس کو بھی بدعتی کہے نگے ....)
2⃣ ابن عباس رض سے والسماء بنیناھا باید کی تاویل بقوة کے ساتھ منقول ہے
طبری ج 7 ص 27
3⃣امام احمد بن حنبل سے و جاء ربک ....الایہ کی تاویل جاء ثواب....کے ساتھ منقول ہے
روی البیہقی عن الحاکم عن عمرو بن سماک عن احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تول قول ربک و جاء ربک ای ثوابہ ...
البدایہ والنھایہ ج 10 ص 327
4⃣ احمد رح سے تجئی یوم القیامہ سورہ البقرہ کی تاویل ثوابہ کے ساتھ منقول ہے
5⃣ امام مالک رح سے ینزل اللہ ......کی تاویل قال مالک ینزل ربنا ای امرہ و رحمتہ فاما ھو فدائم لا یزول
سیر اعلام النبلاء ج 8 ص 105
التمھید لابن ربد البر ج 7 ص 147
6⃣ امام بخاری سے بیھقی نے یضحک اللہ کی تاویل بسند صحیح یرحم اللہ کے ساتھ نقل کیا ہے
کتاب الاسماء والصفات ص 298
⬅ امام صاحب کی عبارت سے بھی یہیں ظاہر بلکہ روز روشن کی طرح واضح ہو رہا ہے کیونکہ اس عبارت کی آخیر میں ہے .....کما یتول اہل القدر و الاعتزال ... معلوم ہوا اس وہ تاویل مراد جو معتزلہ والا ہے نہ وہ جو اہل سنہ و الجماعہ کا ہے فقہ اکبر ص 121 بروایت حماد
🔴ان مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ سلفی امام صاحب کی عبارت سے دھوکہ کھا گئے ہے اور حنفی حضرات امام صاحب کے مخالف نہیں بلکل موافق ہے
اور اس بیان سے تاویل کی مشروعیت اور اس کی تعریفات واضح ہوئی
❌❌ نام نھاد سلفیوں کی مکر سے آپ آگاہ ہوئے
اور ان کا یہ تاویل کو بدعت کہنا یہ فتوی جا کر کن ہستیوں پر لگتا ہے وہ بھی آپ کو معلوم ہو اور یہ تاویلات میں چند ذکر کئے ورنہ بہت زیادہ ہے یہ بطور نمونہ ہے
اعتزار کوئی غلطی پر مطلع ہو جائے ضرور آگاہ کرے
محمد سہیل الحنفی الماتریدی
منقول از محقق العصر قاطع فرقہ باطلہ متکلم اسلام مفتی سجاد الحجابی دام برکاتہم العالیہ
No comments