قسط 3 ⏺امام مالک رح سے استوی کے متعلق جو قول منسبوب ہوتی
قسط 3
⏺امام مالک رح سے استوی کے متعلق جو قول منسبوب ہوتی ہےکہ الاستوی معلوم والکیف مجھول اس کا روایتی اور درایتی تحقیق دیکھ لیں نیز کیف کا معنی اس پر تفصیلی بحث مع چند علمی مباحث ⏺
📢امام مالک رح اس بارے میں جو روایت آئی ہیں وہ مختلف ہے الفاظ کے اعتبار سے بھی اور صحت اور ضعف کے اعبتار سے بھی .
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ نام نھاد سلفی جو روایت ضعیف ہے اس کو صحیح ماننے کے درپے ہے باوجود اس کے کہوہ اور نصوص کی مخالف ہونے جو ان سے مروی ہے دیگر نقلی و عقلی نصوص کی بھی خلاف ہے.جس کا حال نیچھے آپ ملاحظہ کرے نگے ....
🔴مختلف روایات مع الفاظ کی اختلاف 🔴
❇بلفظ الکیف غیر معقول .
1⃣ بطریق جعفر بن عبد اللہ قال کنا عند مالک .........قال الکیف منہ غیر معقول و الاستواء منہ غیر مجھول .
ابو نعیم فی الحلیہ ج 6 ص 326 .
اللالکائی فی شرح السنہ ج 3 ص 497
صابونی فی عقیدہ السلف اصحاب الحدیث ص 17.18
2⃣بطریق عبد اللہ بن نافع قال کنا عند مالک ...باقی متن اوپر جیسا .
التمھید لابن عبد البر ج 7 ص 151
3⃣بطریق عبد اللہ بن وھب
کتاب الاسماء و الصفات بیھقی ص 408 .
4⃣ بطریق یحی بن یحی قال کنا عند مالک ....
بیھقی فی الاعتقاد ص 116 .
5⃣بطریق جعفر بن عبد اللہ عن رجل سماہ لی ......
دارمی الرد علی الجھمیہ ص 66
6⃣بطریق محمد بن نعمان بن عبد السلام یقول انی .........
ابو حیان الانصاری طبقات المحدثین ج 2 ص 214
❗❗
اس روایت کو بھت سے محدثین نے صحیح قرار دیا ہے
1 ابن حجر فرماتے ہے اسنادہ جید
فتح الباری ج 13 ص 406
2 قال الذھبی صحیح .
کتاب العلو ص 103 .
⏪ان سارے محدثین جس کا ذکر ہوا اسی لفظ الکیف غیر معقول کے ساتھ انھوں نےروایت کیا ہے ..
✳ بلفظ ولا یقال کیف و کیف عنہ مرفوع .
امام بیھقی نے کتاب الاسماء و الصفات میں ذکر کیا ہے .
امام ذھبی فرماتے ہے .و ساق البیھقی باسناد صحیح عن ربیع بن رشدینی عن ابن وھب قال کنت عند مالک فدخل رجل ......قال ولا یقال کیف و کیف عنہ مرفوع ...
کتاب العلو ص 138 .
✳بلفظ الاستواءہ مجھول و الفعل منہ غیر معقول .
قال حدثنا مھدی بن جعفر عن مالک
التمھید لابن عبد البر ج 7 ص 151
✳ بلفظ سالت عن غیر مجھول و تکلمت فی غیر معقول .
التمھید ج 7 ص 151
♻فائدہ♻
اسی جیسا روایت .ابن عباس رض .ام سلمہ رض .ربعہ الرائ سے بھی منقول ہے
⏺اثر ابن عباس رض
قال فی تفسیر الایہ الرحمن علی العرش استوی .الکیف غیر معقول والاستواء غیر مجھول
فتح القدیر للشوکانی .ج 2 ص 307
⏺اثر ام سلمہ .
قال الکیف غیر معقول و الاستواء غیر مجھول .
اللالکائی فی شرح السنہ ج 3 ص 497 .
ابن بطہ فی الابانہ ج 3 ص 146
⏺اثر ربیعہ الرائ .
الکیف غیر معقول والاستواء غیر مجھول
اللالکائی ج 3 ص 497
ورواہ العجلی فی الثقات الاستواء منہ غیر معقول و علینا و علیک التسلیم ج 1 ص 358
✳بلفظ الکیف مجھول ✳
نام نھاد سلفی اس روایت کو نقل کرتے ہے اور اس کی تصحیح بھی کرتے ہے .اور اپنے مذہب کا مدار اسی پر رکھا ہوا ہے.
حالانکہ یہ روایت ضعیف ہے عدم ثبوت کے درجہ میں ہے ..
نیز درایتی اعتبار سے بھی بھت کمزور ہے
نیز دیگر صحیح نصوص کے خلاف بھی ہے .
تو اس سے ایسا مطلب و معنی لین گے کہ دیگر نصوص کے ساتھ اس کا تعارض ختم ہو جائے.
یا اس کے درمیان جمع و تطبیق کی صورت نکالے نگے ..
☸ جمع کی صورت یہ ہے کہ یھاں کیفیت کو حقیقت کے معنی پر حمل کرے (.جس کی آگے تفصیل آ رہی ہے ) کہ اللہ کی حقیقت پوری طرح معلوم نہیں ہے نہ یہ مطلب کہ اس کی کیفیت ہے مگر مجھول ..جیساکہ آگے معلوم ہو جائے گا .
📛سفلی حضرات اس کا ترجمہ و مطلب یہ بیان کرتے ہے کہ الکیف منہ غیر معقول .کہ کیف موجود ہے لیکن ہمارے عقل میں نہی آ سکتا اس کا ادراک عقل نہی کر سکتا ....
✅ اس کا مو توڑ جواب یہ ہے
للہ شریک غیر معقول اس کا مطلب ان کے نذدیک یہ ہوگا کہ اللہ کی لئے شریک ہے مگر ہم اس کا ادراک نہی کر سکتے ؟؟
اس کا صحیح ترجمہ و مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حق میں کیف کی تصور ہی نہی کر سکتے .
جیساکہ اس کے حق میں شریک کی تصور نہی کر سکتے .دونوں غیر معقول ہے عقل اس کو جائز قرار نہی دیتی دونوں کو نہ کیف کو نہ شریک کو ..
❇اس کا تفسیر اس طرح بھی کر سکتے یے کہ الاستواء معلوم .کہ اس کا ذکر قران میں آیا ہے معلوم ہے .
والکیف مجھول کہ نہ قران میں نہ سنت میں نہ کلام سلف میں اس کا ذکر ہے اس کا اصل تینوں میں نہیں .
لھذا اس کی اثبات مردود اور بدعت ہے
⏮ کیفیت کی نفی پر چند نقول .
1⃣قاضی عیاض فرماتے ہے کہ لوگوں کا اتفاق ہے کیف کی حرام ہونے پر
نقلہ نووی فی شرح مسلم
2⃣ ابن حجر حدیث النزول پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہے
منزھا اللہ عالیا عن الکیفیہ .و ھذا قول جمھور السلف .
3⃣ نووی اور علامہ سیوطی کا قاضی عیاض کے اجماع کو نقل کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ بھی اسی کے قائل ہے
♻یہ چند نقول بطور یاد دہانی ہم نے پیش کی. ورنہ بھت سارے نقول موجود ہے
⬅کیف کا معنی ....
کیفیت عبارت ہے متعدد اوضاع میں سے ایک وضع متعین کرنا ذات کی لئے .جن وضعوں کا اطلاق اس ذات پر جائز ہو .( وضعوں کا مطلب یہ ہے کہ اس پر متعدد حالات مثلا غمی خوشی صحت و بیماری یہ متعدد حالات اور اوضاع ہے آتے ہو )
اور اللہ تعالی پر متعدد اوضاع جائز نہیں ہے کہ پھر ان میں سے ایک معین کرے اس کی ذات کی لیے .
مثلا . جب ہم کسی سے پوچھتے ہے کیف حالک ؟؟؟
پس ان کی حالت ممکن ہے درست ہو غمگین .ہو بیمار ہو . غصہ ہو وغیرہ من الحالات ....
ہمارے اس سے کیفیت کے بارے میں سوال کرنے کے ضمن میں یہ بات ملحوظ ہوتی ہے کہ اس پر متعدد اوضاع آ سکتے ہیں اور اس کے مختلف کیفیات.
ہمارا سوال ان میں سے ایک کی تحدید اور تعیین مقصود ہوتی ہے کہ ایک معین کرے .
اور یہ بات حد درجہ واضح ہے کہ اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف جائز نہیں ہے
کیونکہ جو اللہ کی لئے ہے وہ اس کی لئے واجب ہوتی ہے اور اس کی ذات کی لئے لازم .
اگر ہم نے اس پر کیفیت یا متعدد اوضاع (وضعیں ) جائز کی خواہ صفات میں ہو یا ذات میں .
جیساکہ مجسمہ کہتے ہے تو اس سے حادث صفات کا قیام ذات باری تعالی کے ساتھ لازم آتا ہے .اور یہ عقلا ممتنع و محال ہے کیونکہ اس سے اللہ کی ذات میں نقص لازم آتا ہے بلکہ اس نقص کو متضمن ہے .
مثلا حال سابقہ یا تو کمال ہوگا یا نقص .اگر اول حالت زائل ہوئی تو اب کامل ہے یا ناقص
ہر وہ صفت جس سے اللہ متصف ہے وہ ازلی ہے ..
اور یہیں سلف کے مقولہ کا مطلب ہے امروھا بلا کیف .
یعنی ہم پر کیفیت کی نفی کرنا واجب ہے اور اس کا اثبات جائز نہیں ہے
بعض مجسمہ کہتے ہے .کہ اصل کیف ثابت ہے .لکن ہمارا علم میں وہ ھیئت معینہ نہیں ہے جو اس کی لئے ثابت ہے
اور یہ اوپر کی تفصیل سے باطل ثابت ہوا .
بعض استواء کو بمعنی الجلوس لیتے ہے یہ مجسم ہے پھر کہتے ہے کہ ہم کیفیت مجھول مانتے ہے .یعنی ان کا مقصد ہوتا ہے کہ بیھٹنے کی کیفیت مجھول ہے
یہ سارا دین مین بدعت ہے اور تجسیم اور تشبیہ
یہیں سلف کے مقولہ کا مطلب ہے .
اور اس مقولہ کی یہ تفسیر بھی کر سکتے ہے
کہ سلف صالحین نے ان صفات کے آیات کی لئے معنی معین نہیں کیا ہے
من ادعی فعلیہ الدلیل . جو اس کا دعوی کرتا ہے اس پر وضاحت اور بیان ضروری ہے .
▶کیفیت پر دوسری اعتبار سے بحث ◀
الکیف معلوم .او الکیف مجھول .....
کے الفاظ سلف نے صفات کے بارے میں استعمال کئے ہے اس کی وضاحت ضروری ہے
⬅الکیف فی الاصطلاح
الاول کیف مستعمل ہوتا ہے جسمیت اور تشخص کے معنی میں اس وقت کیف کی نفی سے ذات کی نفی ہوگی
اس وجہ جو اللہ کی صفات کی لئے کیفیت مانتے ہے ساتھ یہ بھی کہتے ہے کہ یہ کیف مجھول ہے یہ بھت خطر ناک بات ہے
کیونکہ اس کا معنی ہوگا کہ اللہ متکیف ہے اور کیف نہیں ہوتا مگر مجسم اشیاء کی اور مشخص کی.
تو اللہ کے بارے میں تجسیم کا عقیدہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا ہے اعاذنا اللہ منہ
⬅الثانی الکیفیت
صفات کے حقیقت کے معنی میں اس وقت الکیف کی نفی سے مراد علم بالکیف کی نفی ہوگا ذات الکیف کی نفی نہ ہوگا .
یعنی ذات کی کیفیت کی نفی نہ ہوگی ..
📢ناظرین باتمکین
اس بیان سے معلوم ہوا کہ اللہ کی صفات کی کیفیت بلکل ہے ہی نہیں .
اور امام مالک رح سے جو روایت فریق مخالف پیش کرتا ہے وہ ضعیف ہونے کے باوجود دیگر صحیح روایات کے خلاف ہے
اور نقلی اور عقلی نصوص کی بھی خلاف ہے
⚠اگر کوئی غلطی نظر آئے بروقت مطلع کریں .
کاتب محمد سہیل الحنفی الماتریدی
عفی عنہ و لوالدیہ و لسائر المسلمین .
No comments