85782D785359AA17AB647B72067E8792 تفویض کے بارے میں بحث - Wali Khan Kakar

Breaking News

تفویض کے بارے میں بحث

قسط 2⃣

◀ تفویض کے بارے میں بحث ▶

⏺ تفویض کا لغوی معنی .
سپرد کرنا .
یقال فوض امرہ الیہ اذا ردہ .

⏺ تفویض کا اصطلاحی معنی .
تفویض کی حقیقیت اصطلاح میں یہ تین امور سے مرکب ہے .
1 قران و سنت میں جو آیا ہے اس کو ثابت ماننا .

2 ان صفات کے معانی کو جو تشبیہ کے موھم ہے یعنی تشبیہ کا شائبہ ہو .اس کا علم اللہ کے سپرد کرنا ..
اور وہ صفات جو سراسر کمال ہو .ہر اعتبار  سے .اس میں تشبیہ کا شائبہ نہ ہو . تو کلی معنی کے ساتھ اللہ کی لئے ثابت کرنا .اور اس کے اثبات میں کوئی اشکال نہیں ہے ..
❌ سوال
تو باطل کا یہ اعتراض غلط ہوگا .کہ بعض صفات میں کلام دیگر بعض صفات کی طرح ( جسکے معانی تم نے اللہ کی سپرد کئے  میں کلام  کی طرح  ہے .) یعنی تمام صفات  میں ایک جیسا کلام ہوگا .
✅جواب
جو کلی معنی اللہ کے حق میں تشبیہ میں موھم نہ اس کو ثابت کرنا چاہئے لا محذور فیہ
بعض وہ صفات جسکا معنی کلی تشبیہ اور تجسیم کا موھم ہو اس کو اللہ رب العزت سے پھیرنا چاہئے .
📍مثلا ید ..ید ذید. ید بکر . ید النملہ .ید الفیل .ان تمام کا کلی اور حقیقی معنی متماثل متشابہ ہے کیونکہ اس سے طرف جارحہ اور لینے دینے کا آلہ .عضو .. جس نے ید اللہ کو معناہ الحقیقی اللغوی پر حمل کیا تو اس نے مثال .تشبیہ بیان کی .اور اس کے بعد یہ کہنا کما یلیق بشانہ .چنداں مفید نہیں ہے ان کو .کیونکہ اللہ کے لائق ہے ہی نہیں اس کا ظاہری لغوی حقیقی معنی بلکل .کس طرح اس پر حمل کرتے ہو .یہ تو محال ہے
اور یہ ایسا ہے کہ کوئی کہے میں اللہ کی طرف لائق اور نامناسب چیز منسوب کرتا ہوں .یہ گمراہی اور ضلال نہیں .تو پھر کیا ہے .

3 ظاہر جو تشبیہ کا موھم ہے اس کو نفی کرنا کما ید .و وجہ ....وغیرہ ...

🔴اور یہ عقیدہ اور موقف امام نووی رح نے جمھور اہل سنہ و الجماعت کی طرف منسوب کیا ہے بلکہ تمام کی طرف ..
جیساکہ فرماتے .
اعلم ان لاہل العلم فی احادیث الصفات و آیات الصفات قولین .
1 احدھما و ھو معظم السلف او کلہم انہ
لا یتکلم فی معناہ بل یقولون یجب علینا ان نومن بھا .
و نعتقد لھا معنی یلیق بجلال اللہ تعالی و عظمتہ .
مع اعتقادنا الجازم ان اللہ لیس کمثلہ شئی .وانہ منزہ عن الجسم والانتقال والتحیز فی جھت و عن سائر صفات المخلوق ( ابن تیمیہ جگہ جگہ یہ گول کھلاتے ہے کہ سلف سے جسم انتقال ...وغیرہ کی نفی ثابت نہیں فیا للاسف و الی اللہ المشتکی )
و ھذا القول ھو مذہب جماعة المتکلمین و اختارہ جماعة من محققیھم و ھو اسلم .
شرح مسلم ج 3 ص 19
ترجمہ واضح ہے لا ضرورة لھا

◀ آپ نے دیکھ لیا تینوں امور جو تعریف میں گزرے اس میں جمع کئے ہے اس نے .
جس پر علماء کا اتفاق ہے .
یہ امام نووی رح نے تقریبا ہر احادیث الصفات کے ضمن میں ذکر کیا ہے .

🚫 تنبیہ 🚫
صفات تین قسم پر ہیں
1⃣ محض کمال ...
یہ وہ صفات ہے جس کی حقیقیت جسمیت اور حدوث کو مستلزم نہیں ہے ..
جیساکہ حیاة .علم . قدرت .وجود .سمع .بصر .یہ اللہ کی لئے ثابت ہے کما یلیق بہ .
اس کو اصطلاح میں محکمات کہتے ہے .جس میں ہم تفویض نہیں کرتے ...

❓اعتراض ❓
باطل مجسمہ فرقہ کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے کہ آپ لوگ ان صفات میں تفویض نہیں کرتے اس کی معانی بیان کرتے ہے ..کیا اللہ کی علم کی حقیقت آپ لوگوں کو معلوم ہے علم کی حقیقت آپ کو معلوم ہے الخ .

🔴 الجواب ....
ایک ہے شئی کا مفھوم .
اور ایک شئی کا مصداق .

مفھوم الشئی..
الصورة الحاصلة لشى ما .
کسی شئی کو حاصل ہونی والی صورت .

مصداق الشئی .
ھو الذی ینطبق علیہ ذلک المفھوم فی نفس الامر و الخارج .
یہ مفھوم جب اس چیز پر خارج اور نفس الامر میں منطبق ہو جائے .یہ اس کی مصداق بنتی ہے پھر .
اب جن لیں
بعض صفات مفھوم کے اعتبار سے سب کو معلوم ہے ( جس کو ذاتیہ کہتے ہے یہ وہی ہے علم حیاہ سمع بصر ....یہ مفھوم کے اعتبار سے دب کو معلوم ہے )
اور بعض صفات وہ ہے جو مفھوم و مصداق دونوں اعتبار سے ہم کو معلوم نہیں ہے ....
اول میں ہم تفویض نہیں کرتے جو مفھوم معلوم ہے ثانی میں ہم تفویض کرتے ہے جو مصداق و مفھوم دونوں نا معلوم ہے . مثلا ید سارے کتب میں لکھا ہے اس کا معنی الجارحہ .اب اس کی یہ اللہ کی لئے کوئی ثابت مان سکتا ہے اور علم کی کی مفھوم ادراک المعلومات یہ اللہ کی لئے ثابت ہے اس میں کوئی تجسیم نہیں ہے و قس علیہ الباقی .
یہ فرق جب واضح ہوا وہ اعتراض خود بخود منتفی ہوا ......

خلاصہ یہ ہوا اہل سنہ و الجماعہ کے نذدیک جن صفات کا صرف مفھوم معلوم ہے وہ محکمات ہے اور جن کا مفھوم و مصداق نا معلوم ہے وہ متشابہ ہے و الفرق بینھما واضح 

2⃣ دوسری قسم ◀
جس میں محض نقص ہو .
نسیان و غیرہ ....
اس میں تاویل ضروری ہے اور یہ اصل میں اضافات ہے صفات نہیں ہے
نام نھاد سلفی اس کو بھی ضفات گردانتے ہے .

3⃣ وہ صفات جس کا ظاہر تجسیم پر دال ہے مگر کلام عرب میں اس کی دیگر معانی ہوتے ہے جو یلیق باللہ ہوتے ہے لھذا اس کو ظاہر سے پھیرنا ہوگا دیگر مناسب معانی کی طرف .
مثلا ید اس کا ظاہری معنی جارحہ ہے اس کو اس پر حمل نہیں کرے نگے اس کے جو دیگر معانی ہے موقع محل کے مطابق اس کو بدرجہ ظن اس پر حمل کرے نگے نہ کہ قطعیت کے درجہ میں .کیونکہ اس میں سے ایک پر جزم ظن کی محل میں قطع ہے اور صفات باری تعالی ظنون کی محل نہیں ہے .پس اس نصوص کی مراد اللہ کی سپرد کرے نگے
اور یہیں قسم ہے جس کی تفویض کرتے ہے

⏺قاضی ابن عربی فرماتے ہے صفات کے باب میں احادیث صحیحہ تین مراتب پر ہے
1⃣کمال محضہ یجب اعتقادہ

2⃣ ما ورد فیہ نقص محض فھذا لیس للہ فیہ نصیب ....فلا یضاف الیہ ..

3⃣ ما یکون کمالا لکن یوھم تشبیھا .
جو تفصیل اوپر گزری وہی بیان کیا ہے فلا نعیدہ
العواصم من سلقواصم  ص 288

یہیں بات ابن خلدون نے کیا ہے  بتغیر یسیر .
تاریخ ابن خلدون ج 1 ص 600

❓اعتراض. القول فی بعض الصفات کالقول فی البعض الاخر ❓

🔴الجواب باسمہ تعالی 🔴
یہ قاعدہ جو ابن تیمیہ اور اس کے حواری ذکر کر کے اعتراض کرتے ہے
اس کو جو کا تو رکھنا ان کے بس میں نہیں ہے 
مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں
1⃣صفات غیر خبریہ تمام کے تمام نقل مع العقل سے ثابت ہے بخلاف صفات خبریہ جو صرف نقل سے ثابت ہے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے اور یہ ہی اصل اس قاعدہ کے ٹوٹنے کی لئے کافی ہے
جب عقل ظاہر نقل کے معارض (الفاظ پر غور کرے) ہو جائے
تو فرق بھت واضح ہوتا ہے
مثلا قادر یہ عقل سے ثابت ہے عقل الہ اور معبود کو عاجز تصور نہیں کر سکتا 
اور نقل کے ساتھ بھی ثابت ہے ان اللہ علی کل شئ قدیر. الایہ
ہرچہ یدان ھاتھ ہے کم سے کم تمام اس پر متفق ہے کہ عقل اس کے صفت ہونے کا ادراک نہیں کر سکتے
ھاں محض عقل سے انسان اس حد تک پہچتا ہے کہ اس کو اللہ سے نفی کرے .کیونکہ عقل حاکم ہے یہ حیوان کی صفت ہے جو کام کرنے کی لئے اس کا استعمال کرتا ہے یہ اس کی عجز کی دلیل ہے کہ شل یا مقطوع اس سے کام لینے پر قادر نہیں ہوتا
پھر ید مرکب ہونے کی دلیل ہے جو حیوان میں ذاتی نقص کی تکمیل کی لئے آیا ہے .....کیا یہ اللہ قادر مطلق کی لئے ثابت کرے نگے بایں معنی ❓
اگر کہ دے ید ھات یہ معرعف عضو اس ست مراد نہیں ہے مگر جو اللہ کے مناسب ہے وہ مراد ہے
تو جواب یہ ہے کہ عقل اس کے معروف معنی کے علاوہ کوئی اور مفھوم نہیں جانتا
دنیا کی کسی لغت سے پھر وہ مفھوم دکھائے ...

2⃣ عقل کے علاوہ نصوص پر غور کرنے سے نمایا فرق واضح ہو تا ہے
مثلا وہ صفات جس کے ثبوت پر عقل بھی دال ہے وہ مقصود بالذات آئے ہے
فاعلم انہ لا الہ اللہ .واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیر ....ھکذا فی الارادہ و السمع .....
اور جو صفات خبریہ ہے وہ اس کے الٹ ہے اس پر ایمان لانے کی بات  نہیں ہے (اس کا یہ مطلب کوئی نہ لے کہ اس پر ایمان ہی  نہیں بلکہ قران میں مقصود بالذات ذکر اس کا منکر کافر ہے جو اس کے ورورد کا منکر ہو)  مثلا تجری باعیننا ...بل یداہ مبسوطتان ...
کدھر بھی یہ نہیں آیا ہے امنوا اللہ لہ ید ......وغیرہ

3⃣اسماء الحسنی غیر خبریہ صفات سے مشتق ہے مشلا اللہ قدیر و ھو متصف بالقدرہ ..علیم متصف بالعلم ...
اکثر صفات خبریہ ایسے نہیں ہے اللہ کو ماکر. مستھزء . مخادع وغیرہ نہیں کہ سکتے

4⃣صفات خبریہ میں اختلاف آیا ہے سلف سے حتی کہ خود ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے مثلا ساق وغیرہ اور خود ابن تیمیہ اور اس کا شاگرد ابن القیم وجہ اللہ میں اختلاف کئے ہوئے ہے  بخلاف غیر خبریہ اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے
یہ بھی واضح دلیل ہے فرق پر

⚠اگر کوئی ساتھی غلطی پر مطلع ہوا بندہ عاجز کا اگاہ کرے

محمد سہیل الحنفی الماتریدی
عفی عنہ ..
منقول از القول التمام ...و محاضرات علم کلام. لمفتی سجاد الحجابی دام فیوضھم

No comments