📢 نزول کے وقت عرش خالی ہوتا ہے یا نہیں ...
قسط نمبر 1⃣6⃣ ◀️
📢 نزول کے وقت عرش خالی ہوتا ہے یا نہیں ...
📚 منھج سلف کے دعویدار اس مسئلہ میں کافی پریشان اور اختلاف سے دوچار نظر آتے ہیں حتی کیفیت کے اندر پاوں رکھ ہی دیا جو مشبہ کے راہ پر چلنے کا واضح ثبوت فراہم کر رہا ہے.
1⃣ محمد بن ابراہیم آل الشیخ فرماتے ہے کہ بہتر بات نزول کا اثبات کرنا ہے باقی خلو عرش و عدمہ میں خوض نہ کرے
(فتاوی و رسائل ص 212)
2⃣ ابن عثیمین لکھتے ہے کہ اللہ آسمان دنیا کو نزول کرتے ہے اور ہمیں حق نہیں خلو عرش و عدمہ کے بارے دخول ..
(شرح علی عقیدہ واسطیہ ج 2 ص 16)
3⃣ ابن جبرین کہتے ہے کہ ہمارا ایمان ہے نزول پر باقی خلو عرش اور عدمہ اس میں داخل ہونے کی حاجت نہیں .یہ کیفیت میں داخل ہونا ہے (اس کو زہنشین رکھے ) (التعلیقات علی واسطیہ ج 2 ص 19).
4⃣ عبد الرزاق عفیفی بھی ابن جبرین کی طرح کہتا ہے
(فتاوی و رسائل ج 1 ص 163)
5⃣ ابن تیمیہ اس شخص کے بارے میں لکھتے ہے جس سے خلو عرش و عدمہ کا سوال ہو جائے اور مجیب کہے کہ یہ سوال بدعت ہے یہ اصل جواب سے جی چرانا ہے ( یعنی جواب دینا چاہئے خلو کا یا عدمہ کا خود ابن تیمیہ عدم خلو کا قائل ہے ) (مجموع الفتاوی ج 3 ص 219)
6⃣ البانی کہتے ہے کہ نزول کے وقت عرش کا خالی ہونا کہ عرش اللہ کے اوپر ہو جائے یہ محال ہے ...... سلف اور آئمہ سے یہ ماثور ہے کہ اللہ عرش پر ہمیشہ سے ہے اور نزول کے وقت عرش خالی نہیں ہوتا اور شیخ الاسلام نے اسی کی تصویب کیا ہے (موسوعہ البانی ج 2 ص 687).
🖍️ ناظرین!!! آپ نے دیکھ یہ کس طرح ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے ہیں. مندجہ ذیل نکات غور سے پڑھیں.....
1⃣ عند البعض خلو و عدمہ میں توقف بہتر ہے اور یہیں صحابہ کا مسلک ہے .
2⃣ عدم خلو عرش ہے یہ سلف اور آئمہ کا مسلک ہے اور شیخ الاسلام نے اسی کو درست کہا ہے ..
ان دونوں قولوں میں تعارض دیکھئیے کونسا جھوٹا ہے اور کونسا سچا
3⃣ عدم خلو وغیرہ میں دخول یہ کیفیت بیان کرنا ہے ..
البانی نے جو سلف کا مذہب عدم خلو بیان کیا وہ کیفیت بیان کرتے تھے ؟؟؟
4⃣ تیسرا قول زہن میں رہے جبکہ ابن تیمیہ کے نزدیک توقف جواب سے بھاگنا ہے.
حضرات ذرا سوچیں ایسے اختلافات اور ایک دوسرے کی تکذیب والے بھلا توحید کے ٹیکھے دار ہو سکتے ہیں.....
📚📚📚 اب آیے دیکھتے ہیں علماء اہل السنہ و الجماعت کا موقف نزول کے بارے کیا ہے وہ بھی ملاحظہ ہو .تاکہ اصلی اہل السنہ اور نام نھاد اہل السنہ کے درمیان فرق واضح ہو جائے. اس بارے میں اہل سنت و الجماعت کا درج ذیل موقف ہے.
1⃣ تفویض المعنی و نفی الکیف جو متقدمین کا مذہب ہے اور بعض سلفیہ کا جیسے ابن عثیمین وغیرہ...
2⃣ شارحین حديث نے جو اسکا معنی کیا ہے.
اور اوپر کے اقوال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آپکو اہلسنت کے مذہب سے پہلے ابن تیمیہ و خلیل حراس کے قول ذکر کرنا ضروری جانتا ہوں
وہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ کہتے ہے کہ اللہ رب العزت حرکت کرتے ہے .... (منھاج السنہ ج 1 ص 300) .
خلیل ہراس امام ابن خزیمہؒ کی التوحید اپنی تعلیق میں اللہ کے نزول کے قول کے تحت حاشئے میں لکھتے ہیں۔
«يعني أن نزوله إلى السماء الدنيا يقتضي وجوده فوقها فإنه : انتقال من علو إلى سفل!».(ص126)
یعنی اللہ کا آسمان دنیا پر نزول اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ اس کے اوپر ہو کیونکہ نزول اوپر سے نیچے منتقل ہونے کو کہتے ہیں۔
📢 اب اہل السنہ کے اقوال ملاحظہ ہو
1⃣ ابن رجب الحنبلی فرماتے ہے کہ نزول پر زیادتی کرنا انتقال حرکت اور عرش خالی ہوتا ہے یا نہیں سب بدعت ہے ( اوپر سلفیوں کے اقوال ذہنشین رہے بعض عدم خلو کے قائل ہیں ابن تیمیہ البانی ...) (فتح الباری ج 9 ص 281)
2⃣ لسان العرب میں اس حدیث کے تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہے کہ نزول صعود حرکت و سکون یہ اجسام کے صفات ہے اللہ اس سے پاک ہے اور نزول رحمت مراد ہے (لسان العرب ج 10 ص 657)
3⃣ ابن بطال مالکی فرماتے ہیں کہ یا رحمت مراد ہے یا اسکا امر جو اس کے طرف منسوب ہوا ہے (شرح البخاری ج 3 ص 43)
4⃣ امام مالک سے حبیب و مطرف نے روایت کیا ہے کہ اس نے رحمت اور امرہ کے ساتھ تاویل کیا حوالہ بالا ایضا
5⃣ عبد اللہ السنوسی المالکی فرماتے ہے نزول بمعنی الانتقال ممتنع ہے جو اہل حق نے ذکر کیا ہے وہ مراد ہے یعنی دنو رحمت و مذید لطف اکمال المعلم ج 2 ص 385
6⃣ امام قسطلانی نے نزول رحمت سے تاویل کیا ہے (ارشاد الساری ج 2 ص 323)
7⃣ بیضاوی نے بھی رحمت سے تاویل کیا ہے
عمدہ القاری ج 2 ص200
8⃣علامہ سیوطی نے بھی رحمت سے تاویل کیا ہے
تنویر الحوالک ج 1 ص 167
9⃣ابن حبان بھی حرکت و انتقال کی نفی کرتے ہے
(الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان ج 3 ص 300)
🔟 امام بیھقی فرماتے ہے کہ نزول انتقال کے ساتھ نہیں ہے
( الاسماء و الصفات ج 1 ص 17)
1⃣1⃣ ابن فورک فرماتے ہے کہ ینزل کو بعض نے بضم الباء ضبط کیا ہے (یعنی باب افعال سے بمعنی الانزال ہے متعدی الی مفعول .) اور یہ ضبط ثقات نے کیا ہے اور اس کے صحت پر دلیل وہ حدیث ہے جس کو نسائی نے ذکر کیا ہے حضرت ابو ھریرہ رض کی حدیث ان اللہ یمہل حتی یمضی شطر اللیل الاول ثم یامر منادیا ینادی ..........اور عبد الحق اس کو صحیح کہا ہے (عمدہ القاری ج 7 ص 52)
💘💘💘💘💘💘💘💘💘میں اپنی بات کو ایک سلفی عالم کے قول پر ختم کرنا چاہتا ہوں
علامہ مبارکفوری فرماتے ہیں کہ نزول کے بارے میں کئی اقوال ہے ایک یہ ہے کہ اس کو ظاہر اور حقیقت پر محمول کیا جائے اور یہ مذہب مشبہ کا ہے ( اب بات روز روشن کی طرح واضح ہوئی کہ سلفیت کے دعویدار اصل میں مشبہ ہے جیساکہ مبارکفوری سلفی کے بات سے واضح ہوا )
‼‼‼‼‼‼‼ یہ میں نے چند محدیث کے اقوال نقل کئے طوالت کی خوف سے ورنہ سینکڑوں اقوال موجود تھے یہ چند مشھور علماء کے اقوال تھے
فالی المشتکی
محمد سہیل الحنفی الماتریدی
ایوب شیخ
No comments