ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے پرامت کااجماع:
ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے پرامت کااجماع:
علامہ ابن عبدالبرمالکی رح المتوفی 463ھ
(الامام العلامہ حافظ المغرب شیخ الاسلام:سیراعلام النبلاء13/357).فرماتے ہیں:
مااعلم احدامن اہل السنہ قال بغیرھذا(بان الثلاثہ فی کلمہ واحدہ تلزم موقعھاولاتحل لہ امراتہ حتی تنکح زوجاغیرہ) الاالحجاج بن ارطاہ ومحمدبن اسحاق وکلاھما لیس بفقیہ ولاحجت فیماقالہ
(الاستذکار6/8).
میں اہل سنت میں سے کسی کونہیں جانتاجواس بات کاقائل نہ ہوکہ ایک مجلس کی تین طلاق تین واقع ہوجاتی ہیں۔اوروہ عورت شوہرکے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کرے۔سوائے حجاج بن ارطات اورمحمدبن اسحاق کے ۔مذکورہ دونوں شخص نہ توفقیہ ہیں اور نہ ہی اس بارہ میں ان کی بات کوئی حجت ہے۔
No comments