(ثم استوی علی العرش )
(ثم استوی علی العرش ) اس آیت کے بارے میں علماء کرام کی تحقیق آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ اس آیت سے غیرمقلدین اپنے مذموم عقیدہ کا إثبات کرتے ہے اور اس آیت کو محکم آیات میں داخل کرتے ہے اور ان کے زعم کے مطابق معیت وغیرہ آیات وہ متشابه ہے اس کا رجع استوی کی آیت کی طرف ہوگا آئیں دیکهتے ہے سلف صالحین اور خود ان کے بڑهے اس آیت کے بارے کیا کہتے ہے. .......1✍🏻ابن حجر رح فرماتے ہے کہ استوی علی العرش متشابهات میں سے ہے وہ جس کی علم اللہ کو سپرد کی جاتی ہے. (هدیہ الساری ج1ص335) 2✍🏻 أبو حیان اندلسی رح فرماتے ہے المتشابہ ما لا سبیل الی معرفتہ متشابه وہ جس کی پہچان کا کوئی راستہ نہ (اس کے معنی کا علم اللہ کے سپرد اور اسکا رجع محکمات کی طرف )آگے اس کی مثال بیان کرتے ہے جیسے وجه یدین استوی. .. (تفسیر الدر المنثور سورہ آل عمران ص397) .3 ✍🏻 إمام شعبی اور ایک جماعت استوی کے بارے میں فرماتے ہے یہ متشابہات میں سے ہے (المحرر الوجيز ج4ص37) .4✍🏻قاضی عبد الجبار اس کو اپنی کتاب متشابه القرآن میں لاتے ہے فرماتے اللہ نے استوی فرمایا عرش پر اسب طور جیسا کہ قرآن مجید مجید میں ذکر ہے اور اس کے کے سات جو اللہ کا مراد ہے (متشابه القرآن لقاضی عبد الجبار )5 ✍🏻 إمام شعبی رح سے مروی ہے کہ اس سے استوی کے بارے میں سوال کیا گیا. آپ نے جواب دیا یہ متشابہات میں سے ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اس کے معنی کو تعرض نہ کرے نگے (اقاویل الثقات فی تاویل أسماء الصفات زین الدین المقدسی الحنبلي ).6✍🏻 تفسير بغوی میں فرماتے ہے ہرچہ اہل سنت والجماعه ہے وہ استوی کے بارے میں فرماتے ہے جن میں سے سفیان ثوری اوزاعی لیث بن سعد سفیان بن عیینہ عبداللہ بن مبارک ان علماء سے مروی ہے صفات متشابہات کے بارے میں کہ اس گزر جائے بغیر کیفیت کے (تفسیر بغوی سورہ اعراف )7 ✍🏻 ابن قدامہ حنبلی رح فرماتے ہے صحیح قول یہ ہے جو صفات باری تعالٰی کے بارے جو نصوص آئے ہے اس پر ایمان واجب. ..إن میں سے استوی علی العرش بهی ہے 8 ✍🏻 ابن عباس ومسعود وقتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ محکم ناسخ کو کہتے ہے اور متشابه منسوخ کو (بحر المحیط 11 ال عمران )9✍🏻تیمیہ رح فرماتے ہے استوی متشابہات کے قبیل سے ہے (تفسیر سورہ إخلاص 208) 10 ✍🏻 إمام بیهقی فرماتے ہے اللہ کا آسمان میں عرش پر ہونا یہ متشابه آیات سے ہے (الاسماء والصفات مترجم. عقیدہ اہل سنت والجماعه شیخ الاسلام ابن تیمیہ شارح خلیل ہراس سلفی مترجم صادق خلیل سلفی ) ....... تلک عشرة كاملة إن علماء کرام کے اقوال سے معلوم ہوا کہ استوی یہ متشابہات میں سے ہے غیر مقلدین کا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بهی یہیں قول ہے. لهذا اس سے عقیدہ پر استدلال درست نہیں. عقیدہ محکم ہوا کرتا ہے اور متشابه محکم کی ضد ہے جیساکہ یہ واضح ہے ہر ذی عقل والوں پر. ..
No comments