85782D785359AA17AB647B72067E8792 📚منهج سلف صالحین کے دعوے دار مجسمه اور مشبه کے راستہ پر📚. . - Wali Khan Kakar

Breaking News

📚منهج سلف صالحین کے دعوے دار مجسمه اور مشبه کے راستہ پر📚. .

قسط 4
📚منهج سلف صالحین کے دعوے دار مجسمه اور مشبه کے راستہ پر📚. .

🖊️سلف صالحین کے منهج کے دعویدار اللہ رب العزت کی ذات کے بارے وہی عقیدہ رکهتے ہے جو فرقه مجسمه کا تها ان کے  عقائد میں سے ایک عقیدہ اللہ رب العزت کی لئے شکل و صورت و هيئته کا إثبات کرنا  تها  اور وہ شکل و صورت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت کی طرح . نعوذبااللہ من ذلك الکفر لیس کمثلہ شئی  آیت کو پامال کرتے ہوئے اس غلیظ عقیدہ کو  متفق علیہ حدیث سے بزعم ان کے ثابت کرتے  ہے اس کے الفاظ یہ ہے .....خلق الله آدم علی صورته یہ الفاظ ہے حدیث شریف کے     اس حدیث کی تفسیر سلف صالحین کے دعویداروں سے اول بیان کرونگا پهر اہل سنت و الجماعت کے معتبر چند علماء کرام سے اسکی تفسیر نقل کرو نگا  تاکہ جهوٹے اور سچے کا تعین اور فرق واضح ہو جائے اور حق و باطل کے درمیان تفریق ہو جائے اور عوام الناس ان کے جهوٹے لیبل پر دهوکه نہ کھائے  آئیں اس کی تفسیر سلف صالحین کے دعویدار کیا بیان کرتے ہے اور آپس میں ان کی کتنی اختلاف ہے  آپ کے سامنے رکھتا ہوں........📖📖📖 

📌اصل موضوع پر آنے سے پہلے آپ کو یہ بهی بتا تا چلوں کے یہودی بهی اسی عقیدہ کے حامل ہیں . لکهتے ہے اللہ رب العزت کے بارے میں کہ ہم نے انسان پیدا کیا اپنی صورت پر اور ہماری طرح  علی صورتنا کشبهنا. ... شرح سفر التكوين ص 34.  اور شیعوں کا بهی یہی عقیدہ ہے جیسا کہ منهاج السنه میں ابن تیمیه نے خود ذکر کیا ہے ج 2 ص 290.
   
1 📝  ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اللہ کے صورت و هیئت پر ہے تلبیس الجهمیه ج 9  ص 455.
2 📝 شیخ عبد العزیز الراجحي   تلبیس الجهمیه کا محقق ہے آور اسی عقیدہ کو ثابت کرتا ہے کہ اس حدیث میں صورت بمعنی شکل ہے اور وہ انسان کی هیئت کے مانند ہے حوالہ  بالا .
3 📝 مفتی ابن اللجنه الدائمه رقم 2331  کہتے ہیں انسان اور رحمان کے صورت میں اشتراک اسم اور معنی کلی میں ہے.
4📝 ابن عثيمين لکھتے ہیں کہ انسان کی اصلی صورت اس کی ذات ہے اور انسان اور اللہ کے درمیان ایک نوع مشابهت ہے  شرح عقیدہ واسطیه ج 1 ص 110.
5📝 مفتی ابن باز ایک کتاب پر تقریظ کرتے ہے جس کا نام ہے عقیدہ اہل الایمان بان آدم علی صورت الرحمان یعنی اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہے  اور اس کو ایمانیات میں داخل کیا  .نعوذ باللہ من ذلك  اس کتاب کی تصدیق کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ابن باز بھی یہ عقیدہ رکھتا ہے.
6 📝 ناصر الدين البانی کہتا ہے کہ آدم علی صورت الرحمن کے جتنے احادیث ہے وہ منگهڑت اور جو اس سے صورت مثل آدم کا اثبات کرتے ہے اور اپنے سلفییوں پر بهت سخت رد کرتے ہوئے فرماتے ہے  کہ سلفی حضرات اپنے شاذ مسلک کی نصرت میں اہل علم کے نصوص کے ساتھ کھیلتے ہے اور ان باز کے تقریظ پر سخت رد کرتے ہے  صحیح الادب المفرد ص 375 ( آپ نے دیکھ لیا البانی کا قول کہ سلفی حضرات اکابر کے نصوص سے کهیلتے ہے اپنے شاذ مسلک کو اس سے ثابت کرتے ہے اور اس سے یہ بهی روز روشن کی طرح واضح ہوا البانی صاحب ان کے مسلک یعنی اللہ کی صورت اور آدم ایک جیسا ہے پر رد کرتے ہے  یہ ہے سلف صالحین کے دعوے دار کس طرح دین کے ساتھ کهیلتے ہے آگے ایک اور سلفی البانی کے خلاف لکھتا ہے ).
7📝 شیخ عبد الرحمن عفیفی فرماتے ہیں اللہ کی لئے صورت ثابت ہے البانی کے خلاف. یعنی اس کے نذدیک ثابت نہیں  فتاوی  و رسائل 190.
8📝 الشیخ الدويش البانی پر رد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اللہ کا آدم علیہ السلام کے صورت پر ہونا حق ہے اور البانی کا قول اہل سنت و الجماعت کے قول سے کہی دور ہے اور اہل بدعت جهمیه کے موافق ہے.

🗃️ ناظرین!!!  آپ حضرات نے دیکھ لیا ہے یہ کس طرح اللہ کے لئے مثلیت ثابت کرتے ہیں اور اس کو ایمانیات میں شمار کرتے ہیں حلانکہ بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب الاستیذان میں ہے اگر اس کا تعلق ایمانیات سے ہوتا تو امام بخاری ضرور اس کو کتاب الایمان میں لاتے .اور آپ نے یہ بهی دیکھ لیا کہ ان کا آپس میں ایک ہی حدیث کے بارے میں کتنا اختلاف ہے. ...

📌 اب اکابر علمائے کرام کے اقوال آپ کے سامنے رکھتا ہوں  سردست اتنا کہتا ہوں یہ حدیث یعنی خلق آدم علی صورته ضمیر صورته سلف صالحین کے دعوے داروں لفظ اللہ کی طرف راجع کیا اور اس سے دونوں کے درمیان مثلیت ثابت کیا تها اور ان کا یہ بهی کہنا ہے کہ اگر ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہو جائے تو یہ حدیث بے فائدہ رہتا ہے   اس کے جوابات بهی اقوال نقل کرنے کے ضمن میں آجائے نگے.

📍1 محدث اعظم ابن حبان رح فرماتے ہے اس حدیث کا معنی ہمارے نذدیک یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی فضیلت کا ذکر ہے سارے مخلوقات پر. اور ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ضمیر کی اضافت اللہ کی طرف درست نہیں اللہ مخلوق کے ساتھ مشابهت سے پاک ہے اس حدیث میں آدم کی فضیلت ذکر کر کے ثابت کیا کہ آدم باقی مخلوقات کی طرح پیدا نہیں کیا گیا یعنی مذکر و مئنث کی ملاپ پهر انزال پهر رحم میں پھر علقه  پهر مضغه. ...جس طرح باقی بنی آدم کی پیدائش ہے  یہ ہے حدیث کا مطلب صحیح ابن حبان  بتحقيق ارنووط ج 14 ص 33.
📍2  ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہے صورته میں جو ضمیر ہے اس کے مرجع میں اختلاف ہوا ہے بعض کے نذدیک آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے باقی مفهوم ابن حبان کی طرح ہی بیان کیا ہے لهذا اعادہ کی ضرورت نہیں اور بعض کے نذدیک لفظ اللہ کی طرف راجع ہے اور اس پر دلیل اس حدیث سے پکڑا ہے جس میں علی صوره الرحمن کا ذکر ہے  (اس کے بارے میں البانی کا قول زهن میں رہے کہ یہ احادیث سندا اور متنا ضعیف ہے ) ..فتح الباری ج 6 ص 366 حديث نمبر 6228.
📍3 قاضی عیاض فرماتے کہ طوله ستون زراعا یہ جمله اشکال کو واضح کرتا ہے اور مشابهت کو زائل کرتا ہے اور اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے  ......باقی تشریح مندرجہ بالا کی طرح کیا ہے  اکمال المعلم بشرح المسلم ج 8 ص 186.
📍4 محدث اعظم إمام اہل حدیث ابن خزیمه فرماتے ہے کہ بعض علم سے کهورے یہ گمان کرتے ہیں کہ اس میں ضمیر لفظ اللہ کی طرف راجع ہے اور اس مراد ان کی آدم علی صورت الرحمن ہے اللہ رب العزت اس پاک و بلند و بالا ہے جو یہ لوگ کہتے ہے  بلکہ یہ مضروب سے کنایہ ہے کتاب التوحید ج 1 ص 33.
📍5 علامه طیبی شارح مشکوة   شریف وہ بهی فرماتے کہ ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے مرقات المفاتيح ملا علی قاری ج 7 ص 79.

📎 اس کے بعد میں بعض اسامی اشارتا ذکر کرتا ہوں اور آخیر میں البانی کی بیان پر بات ختم کرتا ہوں    علامه قرطبی اپنی تفسیر میں .علامه قفطی انباه الرواه علی انباه النحاه میں یہیں فرماتے ہے. علامه عینی عمدہ القاری ماوردی الحاوي الکبیر میں .علامه سبکی الأشباه و النظائر میں .ابن مندہ کتاب التوحید میں.علامه خطابی غریب الحدیث میں. علامه غزالی  منخول میں،ابن حزم ظاہری اپنے کتاب الاحکام فی اصول الاحکام ج 4  ص 262 میں،ابن حجر نے فتح الباری میں، ابن قتيبة، ابن فورك، امام نووی وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ ضمیر لفظ اللہ کی طرف راجع نہیں ہے.

🖍️شیخ البانی الأدب المفرد کے تحقیق میں اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکهتے خلق الله آدم علی صورته و طوله ستون زراعا  فرماتے ہے اس حدیث واضح دلیل ہے کہ آدم علی صوره الرحمن والی حدیث باطل ہے باوجودیکہ وہ معلل بهی ہے باعتبار سند چار علتیں اس میں ہے جس کو میں نے سلسله احادیث ضعیفه میں مفصل ذکر کر چکا ہوں اور اس صحیح حدیث سے ابو هریره رض کی تفسیر بهی ہوتی ہے جو مختلف طرق سے ثابت ہے یعنی خلق الله آدم علی صورته. اور اسی مناسبت سے کہتا ہوں کہ شیخ تویجری نے برا کیا کہ یہ کتاب لکھا یعنی عقیدہ اہل الایمان فی خلق آدم علی صوره الرحمان کیونکہ عقیدہ صحیح حدیث کے علاوہ ضعیف احادیث سے ثابت نہیں ہوتا اور جس حدیث پر ان کی کتاب کی بنیاد ہے وہ حدیث ہی ضعیف ہے وہ  صحیح احادیث کے خلاف ہے اور اس کا آدم علی صوره الرحمن حدیث کو صحیح  کہنا اس کو چنداں مفید نہیں اور یہ اس کے شان کے خلاف ہے... الأدب المفرد ص 545......

از قلم محمد سہیل الحنفی الماتریدی.
جمع وتحقيق  ایوب شیخ.

No comments