استخارہ کتنی بار کیا جائے؟
*استخارہ کتنی بار کیا جائے؟*
حضرت انس رضى الله تعالى عنه ایک روایت میں فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے بارے میں اللہ تعالی سے سات مرتبہ استخارہ کرو، پھر اس کے بعد (اس کا نتیجہ) دیکھو، تمہارے دل میں جو کچھ ڈالا جائے، یعنی استخارے کے نتیجے میں بارگاہ حق کی جانب سے جو چیز القاء کی جائے، اسی کو اختیار کرو کہ تمہارے لیے وہی بہتر ہے۔ (مظاہر حق)
بہتر یہ ہے کہ استخارہ تین سے سات دن تک پابندی کے ساتھ متواتر کیا جائے، اگر اس کے بعد بھی تذبذب اور شک باقی رہے تو استخارہ کا عمل مسلسل جاری رکھے، جب تک کسی ایک طرف رجحان نہ ہوجائے کوئی عملی اقدام نہ کرے، اس موقع پر اتنی بات سمجھنی ضروری ہے کہ استخارہ کرنے کے لیے کوئی مدت متعین نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ایک ماہ تک استخارہ کیا تھا تو ایک ماہ بعد آپ کو شرح صدر ہوگیا تھا، اگر شرح صدر نہ ہوتا تو آپ آگے بھی استخارہ جاری رکھتے۔(رحمة اللہ الواسعة)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
”دعائے استخارہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی سے دعائے خیر کرتا رہے، استخارہ کرنے کے بعد ندامت نہیں ہوتی اور یہ مشورہ کرنا نہیں ہے، کیونکہ مشورہ تو دوستوں سے ہوتا ہے، استخارہ سنت عمل ہے، اس کی دعا مشہور ہے، اس کے پڑھ لینے سے سات روز کے اندر اندر قلب میں ایک رجحان پیدا ہوجاتا ہے اور یہ خواب میں کچھ نظرآنا، یا یہ قلبی رجحان حجت شرعیہ نہیں ہیں کہ ضرور ایسا کرنا ہی پڑے گا اور یہ جو دوسروں سے استخارہ کرایا کرتے ہیں، یہ کچھ نہیں ہے، بعض لوگوں نے عملیات مقرر کرلیے ہیں، دائیں طرف یا بائیں طرف گردن پھیرنا، یہ سب غلط ہیں، ہاں دوسروں سے کرالینا گناہ تو نہیں، لیکن اس دعا کے الفاظ ہی ایسے ہیں کہ خود کرنا چاہیے“۔
(مجالس مفتی اعظم )
No comments