جمھوریت کیا ہے
جمھوریت کیا ہے ۔#1
جمھوریت کی تعریف اور حقیقت
جمھور کا معنی عوام اور یت کا معنی ان کی حکومت ۔
1.جمھوریت وہ نظام حکومت ہے جس میں عوام کے چنے ہوئے نمائندے حکومت چلاتے ہیں اور وہ نمائندے ان عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے ۔ مطلب کہ کچھ مدت کیلئے عوام کی حکومت عوام پر جمھوریت کہلاتی ہے ۔
2.جمھوریت کو یونان کے یہودی دانشوروں نے بطور تحفہ متعارف کروایا ہے .
3.آج دنیا میں اس لفظ کے استعمال کا کچھ ایسا رواج پڑھ گیا کہ ہر طبقہ اور ہر خیال کے لوگ بلکہ ہر ریاست ہر معاشرہ اسے استعمال کرنے لگا ۔ہر مسئلہ کے حل کرنے میں عوام کی یہی آواز ہوتی ہے ۔ کہ جمھوری طریقہ استعمال کرنا چاہیے حکومت جمھوری ہو ریاست نظام معاشرہ سب جمھوری ہو صنعت وغیرہ جمھوری ہو الغرض مذھبی معاملات بھی جمہوری طور پر طے کی جائے ۔ بلکہ آج کل تو طے ہورہے ہیں ۔
4.یہ اصطلاح جدید نہیں بلکہ اس کا استعمال ارسطو افلاطون سقراط کے زمانے میں مروج تھا ۔سب نے اپنے نقطہ نظر سے اس کی تعریف کی ۔جمھوریت کی ابتداء اور معانی پر اگر غور کیا جائے تو موجودہ دور میں اسکا کہیں وجود ہی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا ناممکن ہے ۔یہ محض ایک خیال رہ گیا ہے
5۔افلاطون کی کتاب جمھوریہ میں طرز حکومت کا خلاصہ یہ نکلتا ہے
اول ۔ ایک شخص کی حکومت بادشاہت کہلائے گی ۔اگر یہ شخص عالم یا فلاسفر ہے تو یہ حکومت سب سے اچھی ہے
دوم ۔چند اشخاص کی حکومت اشرافیہ کہلاتی ہے جس میں کچھ نہ کچھ خوبی ہے
سوم ۔ اکثر اشخاص کی حکومت کو معتدل جمھوریت کہیں گے جو سب سے بیکار اور بدتر حکومت ہوتی ہے
5۔ارسطو ۔ارسطاطالیس
جمھوریت کو اقتدار کی جنگ اور جاھلوں کی حکومت تصور کرتا ہے جس میں افراتفری کا دور دورہ ہو ۔
ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کی طرز ہائے حکومت کی وضاحت اس طرح کی ہے
اول ۔ بادشاھت کی بگڑی ہوئی صورت استبدادیت کہلاتی ہے
دوم ۔ اشرافیہ کی بگڑی ہوئی صورت چند سری کہلاتی ہے ۔
سوم ۔ دولت عامہ یہ اکثریت کی حکومت ہوتی ہے اسکی بگڑی ہوئی صورت جمھوریت کہلاتی ہے ۔
#تلوار
No comments